جنوبی افریقا کیخلاف نامناسب حرکت بھارتی فاسٹ بولر کو مہنگی پڑگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
بھارتی فاسٹ بولر ہرشت رانا کو جنوبی افریقا کے خلاف میچ کے دوران آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی لیول 1 خلاف ورزی پر سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے مطابق ہرشت رانا نے رانچی میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میں آرٹیکل 2.5 کی خلاف ورزی کی، جو کسی بیٹر کی وکٹ لینے کے بعد ایسے الفاظ، اشاروں یا حرکات سے متعلق ہے جو اسے اشتعال دلا سکتے ہوں یا اس کی دل آزاری کا باعث بنیں۔
واقعہ جنوبی افریقا کی اننگز کے 22ویں اوور میں پیش آیا، جب ہرشت رانا نے ڈیوالڈ بریوس کو آؤٹ کرنے کے بعد ڈریسنگ روم کی سمت ایسا اشارہ کیا جو بیٹر کو اشتعال دلا سکتا تھا۔
اس حرکت کے نتیجے میں ہرشت رانا کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کر دیا گیا، جو 24 ماہ میں ان کا پہلا پوائنٹ ہے۔
ہرشت رانا نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے آئی سی سی ایلیٹ پینل کے میچ ریفری رِچی رچرڈسن کی جانب سے تجویز کردہ سزا قبول کرلی، جس کی وجہ سے باضابطہ سماعت کی ضرورت نہیں پڑی۔
امپائروں جیارمن مدن گوپال، سیم نوگاسکی، تھرڈٖ امپائر روڈ ٹکر اور فورتھ امپائر روہن پنڈت نے ان پر چارج عائد کیا تھا۔
لیول 1 کی خلاف ورزی پر کھلاڑی کو سرزنش، میچ فیس کا 50 فیصد تک جرمانہ اور ایک یا دو ڈی میرٹ پوائنٹس دیے جا سکتے ہیں۔
India pacer reprimanded for breaching the ICC Code of Conduct.
Details ⬇https://t.co/0WVp1chcP2 — ICC (@ICC) December 3, 2025
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔