پارٹی پالیسی کیخلاف ورزی پرسینیٹرسیف اللہ ابڑو کوشوکازنوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) تحریک انصاف نے 27 ویں آئینی ترمیم کے لئے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ۔ 7 روز میں تحریری وضاحت طلب کر لی گئی۔
پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی ظفر کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس میں سیف اللہ ابڑو سے کہا گیا ہےکہ آپ کو ستائیسویں آئینی ترمیم کی مخالفت کی ہدایت دی گئی تھی ۔ پارلیمانی پارٹی کا تحریری فیصلہ پہنچایا کہ کوئی ترمیم کی حمایت نہیں کرے گا۔ آپ نے پارلیمانی لیڈر کی ہدایت سے بھی انحراف کیا اور ستائیسویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ۔
نوٹس کے متن کے مطابق پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کیوں نہ آپ کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائرکیا جائے؟ 7 روز میں جواب نہ دیا تو پارٹی سربراہ تادیبی کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔