پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی خبروں کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی خبروں کی شدید مذمت WhatsAppFacebookTwitter 0 1 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا جس کی صدارت پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کی۔ اجلاس میں مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ ناصرعباس، اسد قیصر چیف وہیپ ملک عامر ڈوگر سمیت قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال، خیبر پختونخوا سے متعلق حکومتی بیانات اور آئندہ سیاسی حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں ایک وفاقی وزیر کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر کی تبدیلی اور ممکنہ گورنر راج سے متعلق بیان کی سخت مذمت کی گئی۔ پی ٹی آئی رہنماں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت عوام کے بھاری مینڈیٹ سے منتخب ہوئی ہے، اسے غیر آئینی طور پر عدم استحکام کا شکار بنانے کی کوششیں قابلِ تشویش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ رویہ نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ صوبے کے، جبکہ ایسے اقدامات کے سنگین سیاسی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔اپوزیشن ارکان نے کہا کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث خیبر پختونخوا معاشی، سیکیورٹی اور سیاسی لحاظ سے کمزور ہو رہا ہے۔ وفاق صوبے کو این ایف سی ایوارڈ اور دیگر واجبات کی ادائیگی میں بھی تاخیر کر رہا ہے جبکہ سیکیورٹی معاملات میں تعاون نہ ہونے کے برابر ہے۔
پارٹی اجلاس میں خیبر پختونخوا کے حالیہ امن جرگے کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کیلئے متفقہ قرارداد منظور کی۔ پی ٹی آئی نے شکوہ کیا کہ وفاق نے اس اہم پیش رفت پر صوبائی حکومت سے نہ کوئی مشاورت کی اور نہ جرگے کے فیصلوں پر بات چیت کی، جس سے وفاق اور صوبے کی ہم آہنگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔پارٹی رہنماں نے کہا کہ خطہ کسی نئے تنازع یا جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس کیلئے ڈپلومیسی، تجارت اور کاروبار کا فروغ ناگزیر ہے تاکہ صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔اجلاس میں چیئرمین عمران خان سمیت تمام سیاسی اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
ارکان نے کہا کہ عمران خان پر تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں، لہذا انہیں فوری رہا کیا جائے اور ان کی فیملی و پارٹی قیادت کو ملاقات کی اجازت دی جائے جو ان کا آئینی حق ہے۔اس موقع پر تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے تحت کوئٹہ جلسے پر بھی بات کی گئی جبکہ حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔ پارٹی نے انتخابی عمل کو جانبدار اور یک طرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی متعصبانہ روش ایک بار پھر عوام پر عیاں ہو گئی ہے۔ارکان نے عزم ظاہر کیا کہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور حقیقی جمہوریت کے قیام کیلئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور پارلیمان کو حقیقی معنوں میں بااختیار ادارہ بنانے کیلئے کوششیں تیز کی جائیں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئی ایل ٹی 20 سیزن 4 کا آغاز؛ شائقین عالمی کرکٹ کے ایک اور شاندار سیزن کے منتظر اگلی خبرسہیل آفریدی کیخلاف ضابطہ اخلاق کیس، الیکشن کمیشن نے دائرہ اختیار پرتحریری جواب طلب کرلیا سعودی عرب کا بڑا اعلان: فلسطین کے لیے 90 ملین ڈالر کی نئی گرانٹ سی ڈی اے کی طرف سے مختلف صنعتی یونٹس پر چھاپے افسوس ناک ہیں، عاطف اکرام شیخ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائلین کی شکایات کے ازالے کیلئے آن لائن سسٹم متعارف کرا دیا ہم کسی سے نہیں ڈرتے، ہمت ہے تو صوبے میں گورنر راج لگا کر دکھائیں: سہیل آفریدی کا چیلنج معین علی بھی آئی پی ایل چھوڑ کر ایچ بی ایل پی ایس ایل کھیلنے کے لیے تیار سہیل آفریدی کیخلاف ضابطہ اخلاق کیس، الیکشن کمیشن نے دائرہ اختیار پرتحریری جواب طلب کرلیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا میں گورنر گورنر راج پی ٹی آئی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔