پنجاب میں صفائی کے نظام سے دیگر ممالک سبق سیکھ رہے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (این این آئی)وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق نے کہا ہے کہ وزیراعلی مریم نواز شریف کی زیرِنگرانی ستھرا پنجاب پروگرام کی عالمی سطح پر پذیرائی سے پورے ملک کی نیک نامی میں اضافہ ہوا ہے، یہ محض آغاز ہے، اس سلسلے کو مرحلہ وار آگے بڑھاتے ہوئے اب ویسٹ ٹو ویلیو فیز کا آغاز کر دیا گیا ہے، بین الاقوامی جریدے فوربز نے اپنی رپورٹ میں جس طرح ستھرا پنجاب کی افادیت کو اجاگر کیا اس سے ہماری حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ وہ ڈی جی پی آر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے فوربز نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا کہ ستھرا پنجاب ایک ہی حکومتی انتظام میں دنیا کا سب سے بڑا صفائی کا نظام ہے جس سے 25 ہزار دیہات اور تمام شہروں کے 13 کروڑ عوام کو صفائی کی معیاری خدمات مہیا کیا جا رہی ہیں۔ جریدے نے یہ بھی کہا کہ پنجاب میں صفائی کے نظام سے جکارتہ سے لے کر نیروبی تک تمام ممالک سبق سیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شروع شروع میں وزیراعلی مریم نواز شریف کو مشورہ دیا گیا کہ اتنے بڑے پیمانے پر صفائی کا سسٹم متعارف کرانے کی بجائے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر مخصوص علاقوں سے آغاز کیا جائے تاہم وزیراعلی کا ویژن قابلِ تعریف ہے کہ انہوں نے تمام شہروں اور دیہات میں صفائی کا یکساں نظام بیک وقت شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور آج الحمداللہ نہ صرف لاکھوں خاندانوں کو روزگار کے بالواسطہ اور بلاواسطہ مواقع ملے ہیں بلکہ ایک نئی مقامی انڈسٹری وجود میں آچکی ہے جو ترقی یافتہ ممالک سے کسی طور پر بھی کم نہیں۔ اللہ کے فضل سے صرف آٹھ ماہ کی مدت میں پنجاب ایک لیڈر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وزیراعلی مریم نواز کی برازیل میں حالیہ ماحولیاتی کانفرنس کاپ تھرٹی میں شرکت کے موقع پر بھی کئی ممالک کے پروگرام نے ستھرا پنجاب پروگرام کے ماحول پر مثبت اثرات کا اعتراف کیا۔ وزیراعلی مریم نواز نے صرف آٹھ ماہ میں وہ کچھ کر دکھایا جو گزشتہ پچھتہر برسوں میں نہیں ہوا۔ اب عالمی میڈیا ہماری تعریف کر رہا ہے کہ کس طرح پنجاب ٹرانسفارم کر رہا ہے جبکہ بزدار حکومت کے دوران اخبار گلف نیوز نے ایک رپورٹ میں صفائی کے ناقص انتظامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے قرار دیا کہ کس طرح سابق حکومت نے ماحول کا تباہ کیا۔ لاہور گندگی کے ڈھیروں سے بھرا تھا۔ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ کوڑے کی چھانٹی (سیگری گیشن)کے ذیعے بائی پراڈکٹ بنانے کے لئے اقدامات کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں ہر روز پنجاب بھر میں جمع ہونے والے پچاس ہزار ٹن کوڑے کو بروئے کار لایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیراعلی مریم نواز ستھرا پنجاب میں صفائی
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔