نیپا واقعہ، کے ایم سی نے حادثے کا ذمہ دار بی آر ٹی اور نجی اسٹور انتظامیہ کو قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی آر ٹی نے کام شروع کرنے سے پہلے کے ایم سی کو آگاہ نہیں کیا، کھدائی بی آر ٹی نے کی اور بعد میں صورتحال کو نظرانداز کیا، نجی اسٹور انتظامیہ اور بی آر ٹی کی مشترکہ وجہ سے بچہ گٹر میں گرا، افسران کی نگرانی میں کھدائی شدہ تمام حصے بھر دیئے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کے ایم سی نے نیپا فلائی اوور کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والے بچے کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا ذمہ دار بی آر ٹی تعمیرات اور ڈپارٹمنٹل اسٹور کی انتظامیہ کو قرار دیدیا۔ کے ایم سی نے گلشن اقبال ٹاؤن میں نیپا فلائی اوور کے قریب نجی اسٹور کے سامنے بچے کا گٹر میں گرنے کے واقعے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ سیکرٹری محکمہ بلدیات کو بھجوا دی ہے۔ سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز عمران راجپوت نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ میئر کراچی کے حکم پر میونسپل سروسز نے بچے کی تلاش کا آپریشن شروع کیا، گلشن ٹاؤن کے لنک نالے سے بچے کی لاش برآمد ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معائنے میں ثابت ہوا حادثے کی وجہ بی آر ٹی تعمیرات تھیں، بی آر ٹی منصوبے کی کھدائی کے باعث نالے کے پورے نکاسی کے نظام شدید نقصان پہنچایا، عارضی دو فٹ کے کور لگا کر گٹروں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ کے ایم سی کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریڈ لائن منصوبے کی جانب سے ایک جگہ مین ہول کھلا رہنے سے سانحہ ہوا، یہ طریقہ کار اور غیر معیاری ڈھکن کبھی کے ایم سی نے استعمال نہیں کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے ایم سی نے رپورٹ میں بی آر ٹی
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.