نوکنڈی اور پنجگور میں ایف سی پر حملے ناکام بنادیے گئے، متعدد دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے اتوار کی رات نوشکی کے علاقے نوکنڈی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر ہونے والے مسلح حملے کو ناکام بنا دیا اور تین حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ایف سی جنوبی کے ترجمان کے مطابق دہشت گردوں کے ایک گروہ نے نوکنڈی ٹاؤن میں ایف سی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا۔
ترجمان نے بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور نے ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، اور دھماکے کے فوراً بعد کم از کم 6 مسلح دہشت گرد کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایف سی کی کوئیک رسپانس فورس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایف سی قلعے میں داخل ہونے والے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
ذرائع کے مطابق قلعے کے اندر سے شدید فائرنگ اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ایف سی ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا، ترجمان نے بتایا کہ قلعے کے اندر کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور صورتحال کنٹرول میں ہے۔
دوسری جانب، کچھ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن میں 6 دہشت گرد مارے گئے۔
پنجگور میں چیک پوسٹ پر حملہ
دریں اثنا، دہشت گردوں نے شام کے وقت ضلع پنجگور کے علاقے گرمکان میں ایف سی کی ایک چیک پوسٹ پر بھی حملہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جو رات گئے تک جاری رہا۔ حکام نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
دونوں حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کر لی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔