لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
ویب ڈیسک :لکی مروت میں پولیس موبائل پر خودکش حملے کے دوران ایک سپاہی شہید اور 5 زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق خود کش حملہ تجوڑی کے قریب کٹوخیل اڈا میں کیا گیا، جائے وقوعہ پر خودکش بمبار کے اعضاء بکھرے پڑے ہیں۔
پولیس موبائل گاڑی میں 7 اہلکار موجود تھے، خودکش حملے میں ہیڈ کانسٹیبل علاءالدین شہید ہوگیا۔
زخمیوں میں موبائل انچارج اے ایس آئی حق نواز خان، ڈرائیور یار محمد، ایلیٹ فورس کانسٹیبل کمال احمد، نعیم اللہ اور ڈی ایف سی نصر اللہ شامل ہیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ٹرائل پر فوری حکم امتناع کی استدعا مسترد
خود کش حملہ آور کا ساتھی فرار ہوگیا جبکہ مقامی لوگ جنگلوں میں تعاقب کر رہے ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لکی مروت میں پولیس موبائل کے قریب دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والے اہلکار کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔
وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا ک دہشت گردوں کے مزموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے، معصوم اور نہتے شہریوں کی جان و مال کے دشمن دہشتگردوں کے مکمل سدباب کے لیے حکومت پر عزم ہے۔
بحرین میں مستقل رہائش حاصل کریں، آسان شرائط سامنے آگئیں
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع لکی مروت میں پولیس موبائل پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں پولیس اہلکار نے جان کی قربانی دے کر شہادت حاصل کی۔
وزیراعلیٰ کے پی کے کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، صوبائی حکومت پولیس کے ساتھ کھڑی ہے، امن و امان قائم رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس قسم کے بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔
پنجاب: افغان دہشتگرد گرفتار، بیان بھی سامنے آگیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔