ایف سی ہیڈکوارٹر خودکش دھماکا، حملہ آوروں کا تعلق کس ملک سے تھا، نادرا نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
دھماکے سے متعلق اب تک 100 سے زیادہ مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے، حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز تک آمد کی فوٹیج حاصل کرلی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر خودکش دھماکے سے متعلق تفتیش میں حملہ آوروں کے افغان شہری ہونے کی تصدیق ہوگئی۔ تفتیشی حکام کے مطابق نادرا نے تینوں حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کر دی ہے، تاہم نادرا کو حملہ آوروں کی مزید تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں۔ دھماکے سے متعلق اب تک 100 سے زیادہ مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے، حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز تک آمد کی فوٹیج حاصل کرلی گئی ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق تفتیشی ٹیم سہولت کار کا کھوج لگا رہی ہے، حملے کے دن خودکش حملہ آوروں کے زیرِ استعمال کوئی موبائل فون نہیں تھا۔ واضح رہے کہ 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز میں خودکش دھماکے ہوئے تھے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیڈرل کانسٹیبلری حملہ آوروں کی
پڑھیں:
ذہنی صحت کا سوشل میڈیا کے استعمال سے کیا تعلق ہے؟
امریکی محققین کے مطابق نوجوانوں میں صرف ایک ہفتے تک سوشل میڈیا کا استعمال محدود کرنے سے ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سوشل پلیٹ فارمز سے دوری نے بے چینی، ڈپریشن اور بے خوابی کی علامات میں واضح کمی پیدا کی۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا کس وقت ذہنی صحت کے لیے مضر ہوتا ہے؟
مطالعے کے دوران 295 نوجوانوں نے اپنی روزانہ کی سوشل میڈیا سرگرمی کو تقریباً 2 گھنٹے سے کم کر کے صرف 30 منٹ تک محدود کیا۔ ہر شریک کو اس تحقیق میں حصہ لینے کے لیے 150 ڈالر ادا کیے گئے۔ ایک ہفتہ مکمل ہونے کے بعد کیے گئے سروے میں اوسطاً یہ نتائج سامنے آئے۔
بے چینی کی علامات میں 16.1 فیصد کمی
ڈپریشن کی علامات میں 24.8 فیصد کمی
بے خوابی کی علامات میں 14.5 فیصد کمی
تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ بہتری اُن نوجوانوں میں دیکھی گئی جن میں پہلے سے ڈپریشن کی علامات زیادہ تھیں۔ تاہم شرکا نے تنہائی کے احساس میں کسی واضح تبدیلی کی اطلاع نہیں دی۔
یہ بھی پڑھیں: کم عمری میں اسمارٹ فون کا استعمال ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ، تحقیق
تحقیق جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئی۔ ماہرین کے مطابق یہ نتائج حوصلہ افزا ضرور ہیں، مگر ہر فرد کے لیے یکساں نہیں ہو سکتے۔ بعض شرکا نے نمایاں بہتری محسوس کی جبکہ کچھ میں معمولی یا کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ماہرین نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا کا استعمال کم کرنا ذہنی صحت کی واحد یا بنیادی حکمت عملی نہیں ہونا چاہیے، تاہم یہ ایک سادہ اور مفت حل ہے جس سے نوجوانوں کو فوری فائدہ ہو سکتا ہے۔
تحقیق سے وابستہ کچھ حدود بھی ہیں کیونکہ یہ ایک رضاکارانہ مطالعہ تھا، جس میں شریک افراد پہلے ہی بہتری کی امید رکھتے ہوں گے۔ اس کے باوجود یہ نتائج سوشل میڈیا اور ذہنی صحت کے حوالے سے جاری مباحثے میں اہم اضافہ تصور کیے جارہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی صحت سوشل میڈیا محدود استعمال