حیدرآباد کے قریب کراچی ایکسپریس خوفناک حادثے سے بال بال بچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد: پاکستان ریلوے کا کہنا ہے کہ لاہور سے کراچی جانے والی کراچی ایکسپریس حیدرآباد کے قریب بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی، پاور وین کے ویل کی پن ٹوٹنے پر ٹرین کو بروقت روک لیا گیا۔
ریلوے حکام کے مطابق حادثہ اُس وقت پیش آیا جب کراچی ایکسپریس لاہور سے کراچی کے لیے رواں دواں تھی اور حیدر آباد کے قریب پاور وین کے ویل کی پن ٹوٹ گئی۔ رفتار کم ہونے کے باعث ٹرین حادثے کا شکار ہونے سے بچ گئی اور عملے نے فوری طور پر کراچی ایکسپریس کو حیدر آباد اسٹیشن پر ہی روک لیا۔
ریلوے ذرائع کے مطابق بروقت کارروائی کی وجہ سے کسی جانی یا مالی نقصان سے بچا گیا۔ حادثے کے بعد ریلوے عملے نے معائنہ کرکے سروس کو بحال کرنے کے اقدامات شروع کر دیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی ایکسپریس
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔