ایف سی ہیڈ کوارٹر خودکش دھماکہ: تینوں حملہ آوروں کے افغان شہری ہونے کی تصدیق ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش دھماکوں سے متعلق تفتیش جاری ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق نادرا نے ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کردی ہے، تاہم نادرا کو حملہ آوروں کی مزید تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے متعلق اب تک 100 سے زیادہ مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے، حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔حکام کا مزید کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم سہولت کار کی کھوج لگا رہی ہے، حملے کے دن خودکش حملہ آوروں کے زیر استعمال کوئی موبائل فون نہیں تھا۔واضح رہے کہ 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز میں خودکش دھماکے ہوئے تھے جس میں 3 ایف سی اہلکار شہید جبکہ تینوں حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: حملہ آوروں ایف سی
پڑھیں:
امریکی ریاست ٹیکساس میں بم بنانے کا دعویٰ کرنیوالا افغان شہری گرفتار
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی ریاست ٹیکساس میں بم بنانے کا دعویٰ کرنے والے ایک افغان شہری کو حکام نے گرفتار کر لیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق زیرِ حراست شخص کی شناخت محمد داؤد الوک زئی کے نام سے ہوئی ہے، جسے منگل کے روز ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی نے حراست میں لے کر اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ الوک زئی امریکا میں “آپریشن الائیز ویلکم” پروگرام کے تحت آیا تھا اور اسے 7 ستمبر 2022 کو مستقل رہائش (گرین کارڈ) بھی مل گیا تھا۔
میڈیا کے مطابق الوک زئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ بم تیار کر رہا ہے اور فورٹ ورتھ شہر کو نشانہ بنائے گا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی حکام نے وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنے والے ایک اور افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کو بھی گرفتار کیا تھا، جو 2021 میں امریکا منتقل ہوا تھا۔