پشاور: سرکاری اسپتال کا بلیک میلرسی سی ٹی وی آپریٹر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
پشاور(نیوزڈیسک )این سی سی آئی کی کارروائی،خاتون کی شکایت پربلیک میلنگ نیٹ ورک بےنقاب۔پشاور میں خاتون کی شکایت پرخطرناک بلیک میلنگ نیٹ ورک بےنقاب ہوگیا۔ این سی سی آئی نے کارروائی کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ملزم سرکاری اسپتال میں سی سی ٹی وی آپریٹر نکلا، مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
این سی سی آئی کے مطابق ملزم عمران نے شادی کاجھانسہ دے کر متاثرہ خاتون کی تصاویر و ویڈیوزحاصل کیں اور بعد ازاں بلیک میل کرکے لاکھ روپے تاوان مانگا۔ ریکارڈ کیے گئے بیانات کے مطابق ملزم نے متاثرہ خاتون کے بہنوئی کو نازیبا ویڈیو بھیج کربلیک میلنگ کی کوشش کی۔این سی سی آئی اے نے تاتارا پارک میں خفیہ ملاقات طے کروا کے چھاپہ مارکر ملزم کو موقع پرگرفتارکیا۔ گرفتاری کے دوران قیمتی موبائل فون، واٹس ایپ چیٹ اور متعدد خواتین کی خفیہ ویڈیوز بھی برآمد کرلی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک