ایف سی ہیڈکوارٹرز دھماکہ، حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر 24 نومبر کو ہونے والے دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ نادرا نے تینوں حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کردی ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق نادرا کو حملہ آوروں کی مزید تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں، دھماکے سے متعلق اب تک 100 سے زیادہ مشتبہ افراد سے تفتیش کی جاچکی ہے۔
ویڈیو کے مطابق حملہ آوروں کو پارکنگ سے باہر نکلنے کی بار بار کوشش کرتے دیکھا جاسکتا ہے، پارکنگ میں ہونے والے دھماکے کا منظر بھی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے۔
حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کرلی گئی ہے، تفتیشی ٹیم سہولت کار کا کھوج لگانے میں مصروف ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے دن خودکش حملہ آوروں کے زیرِ استعمال کوئی موبائل فون نہیں تھا۔
واضح رہے کہ 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز میں خودکش دھماکے میں 3 اہلکار شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے، جوابی کارروائی میں تینوں دہشت گرد مارے گئے تھے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حملہ آوروں
پڑھیں:
نو مئی ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس، ملزمان کی فرانزک تصدیق کیلئے درخواست دائر
نو مئی کو ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے میں ملوث ملزمان کی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے تصدیق اور نادرا سے شناخت کے لیے درخواست دائر کردی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق درخواست مدعی مقدمہ کے وکیل شبیر حسین گگیانی ایڈووکیٹ نے پشاور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں دائر کی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے کرائم ویڈیوز کی پی ایف ایس اے سے تصدیق اور نادرا سے شناخت کی جائے۔ درخواست کے متن میں درج تھا کہ ویڈیوز کے معائنے سے اشتغال دلانے حملہ کرنے اور دیگر عناصر کی شناخت ضروری ہے۔
مزید برآں ویڈیوز میں جانے پہچانے لوگ بھی نظر آرہے ہیں جو احتجاج کا حصہ تھے۔ ویڈیوز کے معائنے سے اصل ملزمان کی تصدیق ہوگی، ویڈیوز کی فرانزک سے متعلق اعلی عدالتوں کے فیصلے موجود ہے۔ عدالت براہ راست ارسال کریں یا کسی پولیس کی تفتیشی ونگ کو احکامات جاری کریں۔
درخواست کے ساتھ تمام ویڈیوز کی یو ایس بی بھی فراہم کردی گئی ہیں۔