سید عباس عراقچی سے سعودی ڈپلومیٹ كی ملاقات، تعاون میں وسعت پر غور
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
سعود بن محمد الساطی سے اپنی ایک ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ فلسطین میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی جارحیت اور غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی، عالمی و علاقائی امن کیلئے شدید خطرہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی وزارت خارجہ میں سیاسی مشیر "سعود بن محمد الساطی"، ایرانی وزارت خارجہ کے عہدیداران سے مشاورت کے لئے تہران پہنچے، جہاں انہوں نے آج ایرانی وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ علاقائی و بین الاقوامی صورت حال بھی مورد بحث رہی۔ ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی جارحیت اور غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی، عالمی و علاقائی امن کے لئے شدید خطرہ ہے۔ صیہونی رژیم کی ان قانون شکنیوں اور جنگ کو بڑھنے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام علاقائی و اسلامی ممالک ایک پیج پر آ جائیں۔ دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ کے سیاسی مشیر نے اس امر کی یقین دہانی کروائی کہ ریاض، خطے میں قیام امن اور استحکام کے لئے علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون کی سطح بڑھانے کے لئے تیار ہے۔ سید عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد، سعودی مہمان نے ایرانی وزارت خارجہ میں شامی امور کے ڈائریکٹر "محمد رضا رئوف شیبانی" سے بھی ملاقات كی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لئے
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔