وفاقی حکومت کا خیبر پختون خوا میں گورنر راج لگانے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک—فائل فوٹو
وفاقی حکومت نے خیبر پختون خوا میں گورنر راج لگانے پر غور شروع کر دیا، اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے۔
’جیو نیوز‘ کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ دہشت گردی اور سرحد کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے گورنر راج لگانے پر سنجیدہ غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے حالات گورنر راج کا تقاضہ کر رہے ہیں، یہ گورنر راج 2 ماہ کے لیے لگایا جا سکتا ہے، حالات کے مطابق اس میں توسیع بھی ہو سکتی ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ خیبر پختون خوا کی صورتِ حال سب کے سامنے ہے، صوبے کے شہریوں کو کب تک بے یار و مددگار چھوڑیں گے؟
دوسری جانب خیبر پختون خوا کے مشیرِ اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ گورنر راج لگانا چاہتے ہیں تو آج ہی لگا دیں، ایسے ایڈونچر کی کوشش پر ردِعمل انہیں پتہ چل جائے گا۔
’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ گورنر بدلنا ان کا صوابدیدی اختیار ہے، گورنر راج لگانا چاہتے ہیں توآج ہی لگا دیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عطاء تارڑ نے بے بنیاد الزامات لگائے، ثابت کریں ہمارے سیاسی رہنماؤں کا دہشت گردوں سے کوئی گٹھ جوڑ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختون خوا گورنر راج نے کہا کہ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔