پشاور:خیبر پختونخوا میں خواجہ سرا افراد کی باقاعدہ رجسٹریشن کے لیے سماجی بہبود محکمہ نے ایک نیا رجسٹریشن فارم متعارف کروا دیا ہے۔رجسٹریشن فارم کا مقصد خواجہ سرا برادری کی سرکاری ریکارڈ میں شمولیت کو آسان بنانا اور انہیں فلاحی پروگراموں، سماجی تحفظ اسکیموں اور سرکاری امدادی اقدامات تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔اس اہم قدم کو بلو وینز، سماجی بہبود محکمہ اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR) نے مشترکہ طور پر عملی شکل دی۔تقریبِ رونمائی میں ایڈیشنل سیکریٹری سماجی بہبود عمرا خان، ڈپٹی ڈائریکٹر نادرا شاہد خان، صوبائی کوآرڈینیٹر NCHR رضوان اللہ شاہ، پروگرام مینیجر بلو وینز قمر نسیم، خواجہ سرا کمیونٹی کے نمائندے، اور مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ درست اور شفاف ڈیٹا کی عدم موجودگی خواجہ سرا افراد کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 کی مردم شماری میں ملک بھر میں صرف 20 ہزار سے کچھ زائد خواجہ سرا افراد درج کیے گئے ہیں، جب کہ مختلف تنظیموں کے مطابق اصل تعداد لاکھوں میں ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی نادرا کے ’’X‘‘ شناختی کارڈ رکھنے والے خواجہ سرا افراد کی تعداد انتہائی کم ہے، جس کے باعث وہ سرکاری مراعات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ایڈیشنل سیکریٹری سماجی بہبود عمرا خان نے کہا کہ ’’خواجہ سرا برادری کو سرکاری نظام میں شامل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ جب تک وہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بنیں گے، انہیں سرکاری سہولیات، روزگار کوٹے اور تحفظ کے میکانزم تک رسائی ممکن نہیں۔ یہ فارم اسی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر فرد خود کو محفوظ اور بااختیار محسوس کرے۔صوبائی کوآرڈینیٹر NCHR رضوان اللہ شاہ نے کہا کہ ’’انسانی حقوق کی فراہمی کا آغاز درست ڈیٹا سے ہوتا ہے۔ جب کوئی کمیونٹی ریکارڈ میں موجود نہ ہو تو اس کے مسائل بھی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ یہ قدم ہمارے لیے پالیسی سازی اور مؤثر مداخلتوں کا نیا دروازہ کھولے گا۔‘بلو وینز کے پروگرام مینیجر قمر نسیم نے کہا کہ ’’سرکاری ریکارڈ اور اصل آبادی کے درمیان بڑا خلا تشویش ناک ہے۔ یہ فارم رجسٹریشن کو نہ صرف آسان بنائے گا بلکہ کمیونٹی کو یہ اعتماد بھی دے گا کہ ان کی شناخت اور وجود کو ریاستی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ہمارا مقصد انہیں باوقار زندگی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔‘‘تقریب کے دوران مختلف سرکاری محکموں نے اپنی تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ضلعی سطح پر سماجی بہبود دفاتر کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے اور انہیں کمیونٹی کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا ہوگا تاکہ رجسٹریشن کے عمل میں عملی رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔نادرا حکام نے اعلان کیا کہ موبائل رجسٹریشن یونٹس کے ذریعے گھروں، ڈیرں اور دیگر مقامات پر جا کر خواجہ سرا افراد کی رجسٹریشن کی جائے گی، جس سے وہ افراد بھی ریکارڈ کا حصہ بن سکیں گے جو سماجی دباؤ یا حفاظتی خدشات کے باعث دفاتر آنے سے ہچکچاتے ہیں۔

.

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: خواجہ سرا افراد کی

پڑھیں:

بابو سر ناران روڈ ٹریفک کیلئے بند کر دی گئی

ویب ڈیسک: بابوسر ناران روڈ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے۔

 وادیٔ کاغان کے ٹاؤن ناران کو چلاس سے ملانے والے بابوسر روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

 ڈی سی دیامر کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق برفباری کے باعث بابوسر ٹاپ اور ملحقہ خیبر پختونخوا کے علاقے بند ہیں۔

  برفباری سے سڑکوں پر خطرناک اور پھسلن کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

طیاروں کے سافٹ ویئر میں سنگین خرابی، عالمی پروازیں معطل

 نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ برف ہٹانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے،  دیامر اور خیبر پختونخوا کی حدود سے سکیورٹی واپس بلالی گئی ہے۔

 نوٹیفکیشن کے مطابق تمام صورتحال کے پیشِ نظر بابوسر روڈ تاحکمِ ثانی بند رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا؛ خواجہ سرا افراد کی رجسٹریشن کیلئے نیا فارم متعارف
  • صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانےکی تیاریاں
  • خیبر پختونخوا میں خواجہ سرائوں کی رجسٹریشن کیلئے نیا فارم متعارف
  • خیبر پختونخوا حکومت کا این اے 18 ہری پور ضمنی انتخابات کی انکوائری کا فیصلہ
  • سہیل آفریدی کا احتجاج کے لئے ہر گاؤں سے بندےاڈیالہ جیل لانےکاحکم
  • خیبر پختونخوا کودہائیوں سے جنگوئوں نے تباہ کیا، مزید لڑائی کی گنجائش نہیں ، اسد قیصر
  • بابو سر ناران روڈ ٹریفک کیلئے بند کر دی گئی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کمیشن تشکیل دے دیا گیا
  • شامی قصبے بیت جن پر اسرائیلی حملے میں 9 افراد جاں بحق