خیبر پختونخوا حکومت کا این اے 18 ہری پور ضمنی انتخابات کی انکوائری کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
خیبر پختونخوا حکومت نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 ہری پور میں ضمنی انتخابات کی انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے این اے 18 ہری پور ضمنی انتخابات کی انکوائری کا فیصلہ کر لیا اور پارٹی کو انکوائری کا اختیار دے دیا ہے۔
شفیع جان کے مطابق ضمنی الیکشن میں کلاس فور سے لیکر ڈپٹی کمشنر تک کی مکمل انکوائری ہوگی، کسی بھی اہلکار یا افسر کے ملوث ہونے پر سخت تادیبی کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ صوبائی حکومت کے ماتحت ملازمین اور افسران دھاندلی میں ملوث نہیں، پھر بھی شفافیت کیلیے انکوائری کر رہے ہیں۔
شفیع جان نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیج رہے ہیں جبکہ پریذائیڈنگ افسران کے بیانات اور بیان حلفی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ضمنی انتخابات
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔