الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ بعض عناصر ہری پور این اے-18 ضمنی انتخابات کو متنازع بنانے کے لیے بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں، جن میں ڈی آر او اور آر او کی تعیناتی کو سازش قرار دینا شامل ہے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ یہ دعوے حقائق کے سراسر منافی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق، جنرل انتخابات میں آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی عملے کی کمی کی وجہ سے ممکن نہیں ہوتی، مگر ضمنی انتخابات میں ضرورت کے تحت ایسا کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: این اے-18 ہری پور کے ضمنی انتخاب میں شہرناز عمر ایوب کو شکست، پی ٹی آئی کا دھاندلی کا الزام

ہری پور این اے-18 میں بھی اسی ایریا کے افسروں کو ڈی آر او اور آر او مقرر کیا گیا، جو الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کمیشن کا قانونی اختیار ہے۔

#ECP pic.

twitter.com/pdaYiLWRk3

— Election Commission of Pakistan (OFFICIAL)???????? (@ECP_Pakistan) November 30, 2025

آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی پول ڈے سے پہلے کر دی جاتی ہے اور کسی جانب سے اعتراض الیکشن کے دن تک نہیں اٹھایا گیا، بلکہ الزامات ہارنے کے بعد لگائے جا رہے ہیں۔

فارم 45 کے پہلے سے تیار ہونے کا الزام بھی غلط ہے کیونکہ تمام پریزائیڈنگ آفیسرز اور معاون عملہ صوبائی انتظامیہ سے فراہم کیے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ انتخاب کے عمل میں سیکیورٹی اور عملہ بھی صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کیا گیا۔

مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن نے رانا ثنااللہ، طلال چوہدری، سہیل آفریدی سمیت کس کس کو طلب کیا ہے؟

کمیشن کا کہنا ہے کہ ہر انتخاب کے بعد ایک جیسے بے بنیاد الزامات کا مقصد صرف الیکشن کے عمل کو مشکوک بنانا ہے، جبکہ نتائج پر اعتراض کی صورت میں قانونی فورم الیکشن ٹربیونل ہے، نہ کہ میڈیا پر الزامات لگانا۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہری پور ضمنی انتخابات میں تمام اقدامات آئین اور قانون کے مطابق کیے گئے اور آئندہ بھی کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکشن کمیشن ہری پور این اے-18

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن ہری پور این اے 18 ضمنی انتخابات الیکشن کمیشن ڈی آر او ہری پور آر اوز

پڑھیں:

ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اپنے ڈیٹا بیس کے ہیک ہونے اور ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو جھوٹا، گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دےدیا . ترجمان ایچ ای سی کے مطابق سائبر سیکیورٹی آپریشن سینٹر نے سوشل میڈیا پر وائرل دعوؤں کی فوری تحقیقات مکمل کر لی ہیں، جن سے ثابت ہوا ہے کہ آن لائن گردش کرنے والا مبینہ ڈیٹا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن یا ویریفکیشن سسٹم کا حصہ نہیں ہے۔ ترجمان ایچ ای سی نے ایچ ای سی ڈیٹا بیس ہیک ہونے کی سوشل میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مزیدکہاکہ سوشل میڈیا پر وائرل ریکارڈز کا ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈیٹابیس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے عوام سے سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق جھوٹی افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ایچ ای سی کا ڈیٹابیس اور ڈگری ویریفکیشن سسٹم مکمل طور پر محفوظ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر