خیبر پختونخوا میں خواجہ سرائوں کی رجسٹریشن کیلئے نیا فارم متعارف
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
پشاور:(نیوزڈیسک) خیبر پختونخوا میں خواجہ سرا افراد کی باقاعدہ رجسٹریشن کے لیے سماجی بہبود محکمہ نے ایک نیا رجسٹریشن فارم متعارف کروا دیا ہے۔رجسٹریشن فارم کا مقصد خواجہ سرا برادری کی سرکاری ریکارڈ میں شمولیت کو آسان بنانا اور انہیں فلاحی پروگراموں، سماجی تحفظ اسکیموں اور سرکاری امدادی اقدامات تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔اس اہم قدم کو بلو وینز، سماجی بہبود محکمہ اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR) نے مشترکہ طور پر عملی شکل دی۔
تقریبِ رونمائی میں ایڈیشنل سیکریٹری سماجی بہبود عمرا خان، ڈپٹی ڈائریکٹر نادرا شاہد خان، صوبائی کوآرڈینیٹر NCHR رضوان اللہ شاہ، پروگرام مینیجر بلو وینز قمر نسیم، خواجہ سرا کمیونٹی کے نمائندے، اور مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ درست اور شفاف ڈیٹا کی عدم موجودگی خواجہ سرا افراد کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 کی مردم شماری میں ملک بھر میں صرف 20 ہزار سے کچھ زائد خواجہ سرا افراد درج کیے گئے ہیں، جب کہ مختلف تنظیموں کے مطابق اصل تعداد لاکھوں میں ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی نادرا کے ’’X‘‘ شناختی کارڈ رکھنے والے خواجہ سرا افراد کی تعداد انتہائی کم ہے، جس کے باعث وہ سرکاری مراعات سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ایڈیشنل سیکریٹری سماجی بہبود عمرا خان نے کہا کہ ’’خواجہ سرا برادری کو سرکاری نظام میں شامل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ جب تک وہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بنیں گے، انہیں سرکاری سہولیات، روزگار کوٹے اور تحفظ کے میکانزم تک رسائی ممکن نہیں۔ یہ فارم اسی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر فرد خود کو محفوظ اور بااختیار محسوس کرے۔‘‘صوبائی کوآرڈینیٹر NCHR رضوان اللہ شاہ نے کہا کہ ’’انسانی حقوق کی فراہمی کا آغاز درست ڈیٹا سے ہوتا ہے۔ جب کوئی کمیونٹی ریکارڈ میں موجود نہ ہو تو اس کے مسائل بھی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ یہ قدم ہمارے لیے پالیسی سازی اور مؤثر مداخلتوں کا نیا دروازہ کھولے گا۔‘‘بلو وینز کے پروگرام مینیجر قمر نسیم نے کہا کہ ’’سرکاری ریکارڈ اور اصل آبادی کے درمیان بڑا خلا تشویش ناک ہے۔ یہ فارم رجسٹریشن کو نہ صرف آسان بنائے گا بلکہ کمیونٹی کو یہ اعتماد بھی دے گا کہ ان کی شناخت اور وجود کو ریاستی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ہمارا مقصد انہیں باوقار زندگی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔‘‘
تقریب کے دوران مختلف سرکاری محکموں نے اپنی تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ضلعی سطح پر سماجی بہبود دفاتر کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے اور انہیں کمیونٹی کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا ہوگا تاکہ رجسٹریشن کے عمل میں عملی رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔نادرا حکام نے اعلان کیا کہ موبائل رجسٹریشن یونٹس کے ذریعے گھروں، ڈیرں اور دیگر مقامات پر جا کر خواجہ سرا افراد کی رجسٹریشن کی جائے گی، جس سے وہ افراد بھی ریکارڈ کا حصہ بن سکیں گے جو سماجی دباؤ یا حفاظتی خدشات کے باعث دفاتر آنے سے ہچکچاتے ہیں۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبر پختونخوا حکومت کا این اے 18 ہری پور ضمنی انتخابات کی انکوائری کا فیصلہ
خیبر پختونخوا حکومت نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 ہری پور میں ضمنی انتخابات کی انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے این اے 18 ہری پور ضمنی انتخابات کی انکوائری کا فیصلہ کر لیا اور پارٹی کو انکوائری کا اختیار دے دیا ہے۔
شفیع جان کے مطابق ضمنی الیکشن میں کلاس فور سے لیکر ڈپٹی کمشنر تک کی مکمل انکوائری ہوگی، کسی بھی اہلکار یا افسر کے ملوث ہونے پر سخت تادیبی کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ صوبائی حکومت کے ماتحت ملازمین اور افسران دھاندلی میں ملوث نہیں، پھر بھی شفافیت کیلیے انکوائری کر رہے ہیں۔
شفیع جان نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیج رہے ہیں جبکہ پریذائیڈنگ افسران کے بیانات اور بیان حلفی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔