اسلام ٹائمز: گذشتہ شب رات کے ابتدائی پہر خرلاچی بارڈر کے قریب واقع ایک فوجی چوکی پر افغانستان کی جانب سے کچھ طالبان نے بلا اشتعال حملہ کیا۔ تاہم بروقت کارروائی کرتے ہوئے پاک فوج نے حملے کو ناکام بنانے کے علاوہ مبینہ ہطور پر دراندازوں میں سے دو افراد کو گرفتار جبکہ دو کو ہلاک کردیا اور حملے کے ردعمل میں ایف سی قلعہ تائیدہ سے بڑی گن کے لگ بھگ 10 گولے فائر کئے گئے۔ یہی نہیں بلکہ نستی کوٹ میں موجود ایک اور بیس سے بھی اتنے ہی گولے فائر کئے گئے۔ رپورٹ: ایس این حسینی

گذشتہ دو ماہ سے پاکستان اور افغانستان کے مابین جنگ کی سی صورتحال چلی آرہی ہے۔ اس دوران سرحد پر مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ جس میں جانبین کو کافی حد تک جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ جنگ سے کے پی کے سرحدی یعنی قبائلی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ گذشتہ شب رات کے ابتدائی پہر خرلاچی بارڈر کے قریب واقع ایک فوجی چوکی پر افغانستان کی جانب سے کچھ طالبان نے بلا اشتعال حملہ کیا، تاہم بروقت کارروائی کرتے ہوئے پاک فوج نے حملے کو ناکام بنانے کے علاوہ مبینہ ہطور پر دراندازوں میں سے دو افراد کو گرفتار جبکہ دو کو ہلاک کر دیا اور حملے کے ردعمل میں ایف سی قلعہ تائیدہ سے بڑی گن کے لگ بھگ 10 گولے فائر کئے گئے۔ یہی نہیں بلکہ نستی کوٹ میں موجود ایک اور بیس سے بھی اتنے ہی گولے فائر کئے گئے۔ شہرنو اور خوست میں موجود متعدد افغان فوجی بیسز کو نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ایک ماہ سے کرم کی سطح پر حکومت پاکستان نے اپنی فوجی تیاریوں میں بھرپور اضافہ کیا ہے۔ انفنٹری سمیت بکتر بند گاڑیوں، ٹینکوں اور فوجی نفری میں کافی اضافہ کیا گیا ہے۔ اس دوران فوجی اور سول حکام نے علاقائی قبائل کو بھی بھرپور اعتماد میں لیا ہے۔ علاقائی عمائدین خصوصاً یہاں کی اہم تنظیموں کے ساتھ الگ الگ جرگے کئے گئے اور موضعات کی سطح پر جنگجو رضاکاروں کی فراہمی کی درخواست کی ہے۔ علاقائی سطح پر تمام قبائل نے ملکی دفاع کی خاطر بھرپور کمک کو اپنا قومی فریضہ سمجھ کر حکومت کو تسلی دی ہے۔ خیال رہے کہ ایک ماہ قبل ہونے والی جھڑپوں میں، جن مقامات پر حملہ کیا اور نقصان پہنچایا اور فوجی نفری کی کمی کے باعث جن چوکیوں پر انہوں نے قبضہ کیا، صرف چند ہی گھنٹوں میں انہیں طوری بنگش قبائلی رضاکار فورس نے دوبارہ چھین لیا۔

جس کے بعد مقامی بلکہ قومی سطح پر حکومت کا طوری بنگش قبائل پر اعتماد بڑھ گیا ہے اور ان کے حوالے سے موجود بعض خدشات بھی دور ہوچکے ہیں۔ جس کا واضح ثبوت یہی ہے کہ ہائی اتھارٹیز نے طوری بنگش قبیلے سے سپیشل فورس کے لئے نفری طلب کی ہے۔ جسے نہایت حساس مقامات اور حساس افراد کے ساتھ متعین کیا جائے گا۔ اتنے اعتماد کے باوجود کرم کے محب وطن قبائل طوری بنگش کے راستے گذشتہ ایک سال سے بند پڑے ہیں۔ روزانہ چار گھنٹوں کے لئے جزوی طور پر ٹریفک جاری ہے۔ مسافر اور بڑی گاڑیاں روزانہ نہایت کھٹن راستے یعنی شورکو سے ہوکر جاتی ہیں، جہاں انہیں نہایت مشکل درپیش ہوتی ہے۔

اس کچے راستے میں گاڑیاں اور اس پر موجود سامان روزانہ ٹنوں گرد و غبار برداشت کرتا ہا۔ راستے میں بعض مقامات پر گاڑیوں پھنس جاتی ہیں، جنہیں پھر ٹریکٹروں کی مدد سے نکالنا پڑتا ہے۔ 26 نومبر کو علی زئی ایف سی قلعہ میں ہونے والے جرگہ میں جب کمانڈنٹ حیدر نے قبائلی عمائدین سے کمک کی درخواست کی تو عمائدین نے حکومت سے یہی مطالبہ کیا کہ کرم کی حالت زار پر رحم فرما کر راستوں کو کل وقتی کھولنے کے ساتھ ساتھ اسے صدہ اور علی زئی پر بحال کیا جائے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان