Juraat:
2025-11-30@12:45:28 GMT

ٹیٹو بنانے سے جلد کے کینسر کا خطرہ 29 فیصد بڑھنے کا انتباہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT

ٹیٹو بنانے سے جلد کے کینسر کا خطرہ 29 فیصد بڑھنے کا انتباہ

کینسر کی یہ شکل بالائے بنفشی شعاعوں کے سامنے آنے سے منسلک ہے،ماہرین

ایک سائنسی مطالعہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ٹیٹو، جنہیں بہت سے لوگ شوق سے جسم کے مختلف حصوں پر بنواتے ہیں، انسان کو ایک سنگین خطرے سے دوچار کرتے ہیں کیونکہ وہ جلد کے کینسر کے خطرات کو 29 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں۔

سائنس کی ماہر ویب سائٹ سائنس الرٹ کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائنس دانوں نے پایا ہے کہ ٹیٹو والے افراد کو جلد کے کینسر (میلانوما)کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ کینسر کی ایک خطرناک شکل ہے جو اکثر بالائے بنفشی شعاعوں کے سامنے آنے سے منسلک ہے۔تاہم ٹیٹو سے جلد کے خلیے کی سطح کے کینسر (سکواومس سیل کارسینوما)کا خطرہ بڑھتا ہوا نظر نہیں آتا جو جلد کے کینسر کی ایک اور قسم ہے اور بالائے بنفشی شعاعوں کے نقصان سے منسلک ہے۔ اگرچہ کینسر کی یہ دونوں اقسام ایک ہی وجہ سے ہوتی ہیں لیکن ہر ایک مختلف قسم کے خلیوں سے پیدا ہوتی ہے اور ان کی شدت مختلف ہوتی ہے۔ میلانوما جلد کے خلیے کی سطح کے کینسر سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

.

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: جلد کے کینسر کینسر کی

پڑھیں:

آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کا جز ہے حیثیت تبدیل نہ کی جائے، اکیڈمی آف سائنس کا وزیراعلی کو خط

کراچی:

جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آئی سی سی بی ایس کو خودمختار حیثیت دینے کا معاملہ مزید متنازعہ ہوگیا، وفاقی ادارے "پاکستان اکیڈمی آف سائنس" نے وزیراعلی سندھ سے آئی بی سی سی ایس کو جامعہ کراچی کے جز کے طور پر برقرار رکھنے کی سفارش کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اس حوالے سے پاکستان اکیڈمی آف سائنسز نے وزیراعلیٰ کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ اگر آئی سی سی بی ایس  (انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز ) کی منیجمنٹ یا گورننس کے کچھ معاملات ہیں تو پاکستان اکیڈمی آف سائنس اس کے لیے اپنی خدمات دینے کو تیار ہے۔

اکیڈمی کے صدر اور ممتاز نیشنل پروفیسر کوثر عبداللہ ملک نے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کو بھجوائے گئے مکتوب میں موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ جامعہ کراچی کے ادارے آئی سی سی بی ایس کو بنا کسی جواز اور قانونی طریقہ کار اختیار کیے private individuals نجی حیثیت میں غیر سرکاری افراد کے حوالے کیا جارہا ہے۔

پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے فیلوز کی جانب سے لکھے گئے اس مکتوب میں اکیڈمی کے صدر کا کہنا ہے کہ آئی سی سی بی ایس پاکستان میں سائنسی تحقیق کا نامور اور سرفہرست اداروں میں سے ایک ہے جو قومی سطح سائنس کے شعبے میں ہونے والی جدید پیش رفت کو سامنے لارہا ہے جبکہ آئی سی سی بی ایس سے وابستہ سائنس دان نہ صرف کئی سول ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی کامیابیوں کا اعتراف کیا جاچکا ہے آئی سی سی بی ایس سے تربیت یافتہ پروفیشنلز یا ماہرین ملکہ جامعات اور ریسرچ و ڈویلپمنٹ کے اداروں میں خدمات دے رہے ہیں اور پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی میں اس سینٹر کا کلیدی کردار ہے۔

اکیڈمی نے وزیر اعلی سندھ کو لکھے گئے خط میں اس امر پر زور دیا کہ آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کا بنیادی حصہ ہے اور اس کی قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی اس کے معیارات کے نھیں اور بدعنوان کی راہ کھول دے گی جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کے پاس 
ایسے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے اداروں کو چلانے کا درکار تجربہ نہیں ہے جو منافع یا کسی منفعت کے بغیر تعلیم و تربیت دے رہے ہوں اس لیے ضروری ہے کہ آئی سی سی بی ایس کو جامعہ کراچی کے ماتحت ہی چلایا جائے۔

واضح رہے کہ اس ادارے کو جامعہ کراچی سے علیحدہ کرکے خودمختار حیثیت دینے کا قانونی مسودہ سندھ کابینہ کے گزشتہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا جس کے بعد انجمن اساتذہ جامعہ کراچی، آئی سی سی بی ایس کے ملازمین اور دیگر حلقوں سے اس اقدام کے خلاف مسلسل آواز بلند کی جارہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سری لنکا میں تباہی پھیلانے کے بعد سمندری طوفان بھارت کی طرف بڑھنے لگا
  • کینسر وارڈ
  • مریخ پر ممکنہ برقی چمک کے آثار دریافت، سائنس دان حیران
  • ڈیجیٹل تشدد، ایک انتباہ
  • رہبر انقلاب اسلامی کا انتباہ
  • آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کا جز ہے حیثیت تبدیل نہ کی جائے، اکیڈمی آف سائنس کا وزیراعلی کو خط
  • علیمہ خان کی شوکت خانم اسپتال کے بینک اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کی درخواست
  • مودی دور میں ہندوتوا نظریے کا فروغ، اقلیتوں میں عدم تحفظ بڑھنے لگا
  • وادی کشمیر میں جماعتِ اسلامی کشمیر سے منسلک مختلف مقامات پر چھاپے