ٹیٹو بنانے سے جلد کے کینسر کا خطرہ 29 فیصد بڑھنے کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
کینسر کی یہ شکل بالائے بنفشی شعاعوں کے سامنے آنے سے منسلک ہے،ماہرین
ایک سائنسی مطالعہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ٹیٹو، جنہیں بہت سے لوگ شوق سے جسم کے مختلف حصوں پر بنواتے ہیں، انسان کو ایک سنگین خطرے سے دوچار کرتے ہیں کیونکہ وہ جلد کے کینسر کے خطرات کو 29 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں۔
سائنس کی ماہر ویب سائٹ سائنس الرٹ کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائنس دانوں نے پایا ہے کہ ٹیٹو والے افراد کو جلد کے کینسر (میلانوما)کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ کینسر کی ایک خطرناک شکل ہے جو اکثر بالائے بنفشی شعاعوں کے سامنے آنے سے منسلک ہے۔تاہم ٹیٹو سے جلد کے خلیے کی سطح کے کینسر (سکواومس سیل کارسینوما)کا خطرہ بڑھتا ہوا نظر نہیں آتا جو جلد کے کینسر کی ایک اور قسم ہے اور بالائے بنفشی شعاعوں کے نقصان سے منسلک ہے۔ اگرچہ کینسر کی یہ دونوں اقسام ایک ہی وجہ سے ہوتی ہیں لیکن ہر ایک مختلف قسم کے خلیوں سے پیدا ہوتی ہے اور ان کی شدت مختلف ہوتی ہے۔ میلانوما جلد کے خلیے کی سطح کے کینسر سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: جلد کے کینسر کینسر کی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔