ٹیٹو بنانے سے جلد کے کینسر کا خطرہ 29 فیصد بڑھنے کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
کینسر کی یہ شکل بالائے بنفشی شعاعوں کے سامنے آنے سے منسلک ہے،ماہرین
ایک سائنسی مطالعہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ٹیٹو، جنہیں بہت سے لوگ شوق سے جسم کے مختلف حصوں پر بنواتے ہیں، انسان کو ایک سنگین خطرے سے دوچار کرتے ہیں کیونکہ وہ جلد کے کینسر کے خطرات کو 29 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں۔
سائنس کی ماہر ویب سائٹ سائنس الرٹ کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائنس دانوں نے پایا ہے کہ ٹیٹو والے افراد کو جلد کے کینسر (میلانوما)کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ کینسر کی ایک خطرناک شکل ہے جو اکثر بالائے بنفشی شعاعوں کے سامنے آنے سے منسلک ہے۔تاہم ٹیٹو سے جلد کے خلیے کی سطح کے کینسر (سکواومس سیل کارسینوما)کا خطرہ بڑھتا ہوا نظر نہیں آتا جو جلد کے کینسر کی ایک اور قسم ہے اور بالائے بنفشی شعاعوں کے نقصان سے منسلک ہے۔ اگرچہ کینسر کی یہ دونوں اقسام ایک ہی وجہ سے ہوتی ہیں لیکن ہر ایک مختلف قسم کے خلیوں سے پیدا ہوتی ہے اور ان کی شدت مختلف ہوتی ہے۔ میلانوما جلد کے خلیے کی سطح کے کینسر سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: جلد کے کینسر کینسر کی
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔