Jasarat News:
2026-06-03@07:24:47 GMT

مریخ پر ممکنہ برقی چمک کے آثار دریافت، سائنس دان حیران

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماہرینِ فلکیات نے ایک اہم پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریخ کی فضا میں ایسی برقی سرگرمیوں کے آثار ملے ہیں جنہیں بجلی کی چمک سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس نئے انکشاف نے سیارے کی موسمیاتی ساخت اور اس کے اندر موجود توانائی کے قدرتی نظام کے بارے میں نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر یہ دریافت درست ثابت ہوتی ہے تو یہ سرخ سیارے کے ماحول سے متعلق انسانی معلومات میں ایک بڑا اضافہ تصور ہوگا۔

یہ مشاہدہ ناسا کے پرزرویرنس روور کے آلات سے سامنے آیا ہے، جو 2021 میں مریخ کی سطح پر اترا تھا اور اس وقت سے جیزیرو کریٹر کے علاقے میں مسلسل تجربات اور نمونوں کے معائنے میں مصروف ہے۔ روور کے سپرکیم آلے نے اپنی آڈیو اور برقی مقناطیسی ریکارڈنگز کے ذریعے اس حیران کن مظہر کو محفوظ کیا، جسے محققین نے ابتدائی طور پر ’منی لائٹننگ‘ کا نام دیا ہے۔

محقیقین کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ مریخ پر اس طرح کے برقی اخراج سے متعلق قابلِ سماعت اور قابلِ پیمائش شواہد اکٹھے ہوئے ہیں۔ روور کے مائیکروفون نے 28 گھنٹوں سے زیادہ آڈیو ریکارڈنگز جمع کیں، جبکہ مجموعی طور پر اعداد و شمار کا تعلق دو مریخی سالوں کے برابر وقت (یعنی 1374 زمینی دنوں) سے ہے۔

اس طویل مشاہدے نے سائنس دانوں کو یہ موقع دیا کہ وہ فضا میں پیدا ہونے والے ان برقی جھٹکوں کو نہ صرف سن سکیں بلکہ ان کے تسلسل اور شدت کی درست پیمائش بھی کر سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ریکارڈنگز میں جو برقی ڈسچارج پکڑا گیا ہے، اس کا بہت گہرا تعلق مٹی کے طوفانوں اور آندھیوں سے نظر آیا ہے۔ مریخ پر مٹی کے طوفان عام ہیں اور کئی بار پورے سیارے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

سائنس دانوں کا نظریہ ہے کہ ان طوفانوں کے دوران رگڑ اور تیز ہوا کے باعث گرد کے ذرات میں برقی چارج پیدا ہوتا ہے، جو بالآخر برقی اخراج کی شکل میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ اگر یہ اندازہ درست ثابت ہو جائے تو یہ مریخ کے موسم کی شدت، اس کے توانائی کے بہاؤ اور گرد کے طوفانوں کے اندر موجود پوشیدہ قوتوں کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم پیش رفت ہوگی۔

فرانسیسی ماہرین کی وہ ٹیم جس نے یہ ڈیٹا مرتب کیا ہے، اس بات پر زور دیتی ہے کہ مریخ پر بجلی کے اس عمل کی مکمل تصدیق کے لیے مزید آلات کی ضرورت ہوگی۔

دوسری جانب محققین نے سفارش کی ہے کہ مستقبل میں مریخ پر ایسے کیمرے اور حساس آلے بھیجے جائیں جو فضا میں ہونے والے ان اخراجات کو بصری طور پر بھی ریکارڈ کر سکیں۔ اگر اس مظہر کی واضح تصاویر بھی حاصل ہوجائیں تو یہ اس دریافت کی سائنسی حیثیت کو کئی گنا مستحکم کر دے گا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ کا ماحول پہلے ہی زمین کے مقابلے میں بہت کم دباؤ رکھتا ہے، لہٰذا وہاں بجلی جیسی سرگرمی کا ہو جانا غیر معمولی تصور کیا جاتا تھا۔ اسی لیے یہ دریافت محض ایک سائنسی حیرت ہی نہیں بلکہ مستقبل کی مریخی تحقیقات کے لیے نئے دروازے کھولنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے کہ مریخ

پڑھیں:

فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی

دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘  اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔

فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔

اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟

جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔

ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغاز

ماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔

اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔

زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔

اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔

یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔

’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھی

اوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں:   اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

 سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔

دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات

سپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی