NA-18ضمنی الیکشن، الیکشن کمیشن نے دھاندلی الزامات سختی سے مسترد کردیئے
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
پشاور(نیوزڈیسک) خیبرپختونخوا حکومت نے این اے 18 ہری پور کے ضمنی انتخابات کی انکوائری کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے تاہم الیکشن کمیشن نے حلقے میں دھاندلی سے متعلق تحریکِ انصاف کے الزامات سختی سے مسترد کردیئے۔ پولنگ ڈے تک کسی جماعت نے افسران پر اعتراض نہیں کیا، ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ مخصوص عناصر حسبِ معمول انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ رویہ عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
پی ٹی آئی 23 نومبر کو ہری پور کے حلقہ این اے 18 کے ضمنی الیکشن کے نتائج ماننے سے مسلسل انکاری ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے الیکشن کی انکوائری کا اعلان کر دیا۔ صوبائی معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے انکوائری کا حکم دیا۔ دھاندلی سے متعلق باقاعدہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دھاندلی کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ڈی آر او اور آر او کی تعیناتی کو سازش قرار دینا جھوٹ کا پلندہ ہے۔ ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن کے اپنے افسران ہی ڈی آر او اور آر او کے فرائض نبھاتے ہیں۔۔ این اے 18 میں بھی یہی طریقہ کار اپنایا گیا ۔ تمام افسران اسی علاقے میں پہلے سے موجود تھے۔ پولنگ کے دن کسی سیاسی جماعت نے افسران کی تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے فارم 45 پہلے سے تیار ہونے کا الزام بھی مکمل طور پر گمراہ کن قرار دے دیا۔ کہا صوبائی انتظامیہ نے پولنگ بیگز اور نتائج آر او آفس میں جمع کرائے، جب کہ سکیورٹی انتظامات بھی مکمل طور پر صوبائی حکومت نے کیے تھے۔ ہر الیکشن کے بعد ایک جیسے الزامات دہرانا جمہوری عمل کو مشکوک بنانے کی کوشش ہے۔ اگر کسی جماعت کو اعتراض ہے تو متعلقہ فورم یعنی الیکشن ٹریبونل سے رجوع کرے۔ ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے آئین و قانون کے مطابق کام کیا ۔ مستقبل میں بھی قوانین پر سختی سے عمل جاری رکھا جائے گا۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ضمنی انتخاب سے پشاور حملے تک
پاکستان کی انتخابی سیاسی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ اول دن سے تادم تحریر ہونے والے تمام عام انتخابات اور ضمنی الیکشن ہمیشہ متنازعہ رہے ہیں۔ منصفانہ، شفاف، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات کا خواب آج بھی تشنہ تعبیر ہے۔
الیکشن کمیشن جس کی یہ آئینی ذمے داری ہے کہ وہ ملک میں منصفانہ اور شفاف الیکشن کو یقینی بنائے۔ انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی انتخابی مہم چلانے کے یکساں مواقع فراہم کرے لیکن افسوس کہ الیکشن کمیشن کا کردار بھی ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔
جیتنے والی جماعتیں اپنی فتح و کامیابی کا جشن مناتی ہیں تو ہارنے والی سیاسی جماعتیں انتخابات میں دھاندلی و بدعنوانی کے الزامات عائد کر کے انتخابی نتائج کو بھی مسترد کر دیتی ہیں۔ انتخابی سروے کرنے والے اداروں کی نتائج کے حوالے سے جاری کی جانے والی رپورٹس پر بھی مبصرین و تجزیہ نگار سوالات اٹھاتے ہیں۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انتخابی ماحول سے شاکی جماعتیں انتخابات کا بائیکاٹ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتی ہیں۔ معروف سیاسی جماعتوں کے بائیکاٹ کرنے کے باعث مخالف سیاسی جماعتوں کے لیے مقابلے کا میدان خالی ہو جاتا ہے اور ان کے لیے جیتنے کے مواقع آسان ہو جاتے ہیں۔
اس کی تازہ مثال 23 نومبر اتوار کو پنجاب اور کے پی کے میں قومی و صوبائی اسمبلی کی مجموعی طور پر 13 نشستوں پر ہونے والے ضمنی الیکشن ہیں جس میں مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جب کہ پیپلز پارٹی صرف ایک نشست ہی جیت سکی۔ حسب معمول ضمنی الیکشن میں ووٹر ٹرن آؤٹ بھی کم رہا۔ پی ٹی آئی نے ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ضمنی الیکشن کو نظام کے لیے ’’ ویک اپ کال‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تاریخ کا اس قدرکم ٹرن آؤٹ تشویش ناک اور واضح طور پر جاری سیاسی نظام پر عوام کے عدم اعتماد کی نشان دہی کرتا ہے۔ جب کہ صوبے کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات ریفرنڈم ثابت ہوا، مقبولیت کا بت پاش پاش اورمخالفین کے بیانیے کی شکست ہے۔
مسلم لیگ (ن) نے کارکردگی پر الیکشن جیتا ہے۔ ماضی کی انتخابی مہم یہ بتاتی ہے کہ ضمنی الیکشن عموماً وہی جماعت جیتتی ہے جو اقتدار میں ہو اور اس خوش کن فتح کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اقتدار میں ہونے کے باعث انتخابی مشینری کے تمام ریاستی ادارے اس کے اشارہ ابرو پر کام کرتے ہیں۔ اسی لیے ممکنہ دھاندلی کا پلڑا بھی اسی جانب جھک جاتا ہے۔
ایک بڑی وجہ پی ٹی آئی کے بائیکاٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین و تجزیہ نگاروں کے مطابق قید تنہائی میں ہونے کے باوجود بانی پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت آج بھی برقرار ہے اور آیندہ عام انتخابات بھی اگر شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طریقے سے منعقد ہوئے اور الیکشن کمیشن اپنی ذمے داری پوری کرنے میں کامیاب رہا اور پی ٹی آئی کو اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح یکساں مواقع ملے اور فارم 45 اور 47 کا رولا نہ پڑا تو (ن) لیگ اور پی پی پی کے لیے واضح برتری حاصل کرنا آسان کام نہ ہوگا۔ ان تبصروں اور تجزیوں میں کتنی صداقت ہے اس کا فیصلہ آنے والے انتخابات میں ہی ہو سکے گا۔
فی الحال تو مسلم لیگ (ن) نے جو کامیابی سمیٹی ہے، اس نے اسے قومی اسمبلی میں مستحکم پوزیشن پر کھڑا کر دیا ہے، اسے اب پی پی پی کی بے ساکھیوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ تاہم سینیٹ میں آج بھی اس کی پوزیشن کمزور ہے اور قانون سازی کے لیے اسے ہر صورت پی پی پی کی محتاجی رہے گی۔
ایک طرف تو مسلم لیگ (ن) انتخابی کامیابی کا جشن منا رہی ہے جب کہ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے دارالخلافہ پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر افغان دہشت گردوں نے خودکش حملہ کرکے حکمرانوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ لاکھ رکاوٹوں، آپریشن اور ہلاکتوں کے باوجود موقع ملتے ہی وہ اپنا کام کر گزریں گے۔ ہماری سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے اس حملے کو ناکام بنا دیا اور تینوں دہشت گرد ہلاک ہو گئے اور ہمارے تین جوان بھی شہید ہو گئے۔
مذکورہ دہشت گردوں کی افغان شہری ہونے کی نشانی اس بات کی علامت ہے کہ پاک افغان حالیہ مذاکرات کا کوئی نمایاں نتیجہ نہیں نکلا۔ افغانستان کی طالبان حکومت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے پاکستان کے مطالبے کو کوئی اہمیت نہیں دی بلکہ بھارت کے اکسانے پر اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔ قطر اور ترکیہ کی ثالثی موثر ثابت نہ ہو سکی پاکستان کو سفارتی محاذ پر امریکا، چین، روس اور دیگر ممالک کو صورتحال کی نزاکت اور سنگینی سے آگاہ کرنا چاہیے۔ فتح کا جشن اپنی جگہ لیکن عوام کی آواز بھی سننا چاہیے۔