بنگلہ دیشی فوج میں بغاوت، عوامی لیگ کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آگئ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش میں 2009 کی بی ڈی آر بغاوت اور اس دوران ہونے والے ہلاکت خیز واقعات کی تحقیقات کے لیے قائم نیشنل انڈیپنڈنٹ انویسٹی گیشن کمیشن نے اپنی حتمی رپورٹ چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کے حوالے کر دی۔
کمیشن کے چیئر میجر جنرل (ریٹائرڈ) اے ایل ایم فضل الرحمان نے دیگر کمیشن اراکین کے ہمراہ ریاستی گیسٹ ہاؤس جمونا میں پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں: ’میوزک، میمز اور گرافیٹی‘ بنگلہ دیش میں بغاوت سے احتساب تک کے عوامی ہتھیار
رپورٹ وصول کرتے ہوئے چیف ایڈوائزر پروفیسر یونس نے کہا کہ یہ تحقیقات ملک کے ایک انتہائی سنگین حفاظتی واقعے کے گرد دیرینہ سوالات کو واضح کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ سالوں تک قوم کو یہ نہیں معلوم تھا کہ حقیقت میں کیا ہوا اور کمیشن کے کام نے وضاحت فراہم کی ہے۔
پروفیسر یونس نے رپورٹ کو قیمتی قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مستقبل میں ادارہ جاتی ناکامیوں کی روک تھام کے لیے اہم اسباق فراہم کرتی ہے۔
کمیشن کے چیئرمیں میجر جنرل فضل الرحمان نے بتایا کہ تحقیقات میں مشکلات اس وجہ سے آئیں کہ 16 سال پرانے کئی ریکارڈز اور شواہد خراب ہو چکے تھے اور کئی متعلقہ افراد ملک چھوڑ چکے تھے۔ کمیشن نے گواہان کو طلب کیا اور سابقہ تحقیقات کا جائزہ لیتے ہوئے تمام دستیاب دستاویزات و متعلقہ مواد جمع کیا۔
کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بغاوت کے واقعات میں براہ راست بیرونی عناصر ملوث تھے اور اس وقت کی حکمران عوامی لیگ کی منظم مداخلت کے مضبوط شواہد ملے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسانیت کیخلاف جرائم: بنگلہ دیشی عدالت نے حسینہ واجد کو سزائے موت سنا دی
میجر جنرل (ریٹائرڈ) جہانگیر کبیر تالکدر کے مطابق بغاوت منصوبہ بندی کے تحت ہوئی اور اس وقت رکن پارلیمنٹ شیخ فضل نور ٹاپوش نے اہم رابطہ کار کا کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق مقامی عوامی لیگ کے کارکنان نے ملوث افراد کی حفاظت میں مدد کی اور اطلاعات کے مطابق وہ پیلکھانہ، بی ڈی آر ہیڈکوارٹرز میں داخل ہوئے، جہاں چند درجن افراد کی تعداد چند گھنٹوں میں سینکڑوں تک پہنچ گئی۔
کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ واقعہ اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی آشیرباد کے ساتھ پیش آیا اور ذمہ داری سیاسی قیادت سے لے کر اس وقت کے آرمی چیف تک پھیلی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے، خفیہ ایجنسیاں اور کچھ میڈیا اداروں نے بحران کے دوران سنگین ادارہ جاتی ناکامی کا مظاہرہ کیا۔
بحران کے دوران جمونا میں شیخ حسینہ سے ملاقات کرنے والے بی ڈی آر اراکین کی فہرست مناسب طور پر درج نہیں کی گئی، جو بعد کی تحقیقات میں رکاوٹ بنی۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ حسینہ واجد کی حوالگی، بھارت نے بنگلہ دیش کی درخواست پر غور شروع کردیا
رپورٹ میں سفارشات بھی شامل کی گئی ہیں جن کا مقصد ملک کی سیکیورٹی فورسز میں ایسے واقعات کی روک تھام، متاثرہ افراد اور ان کے اہلخانہ کے لیے انصاف اور ادارہ جاتی تیاری و بحران سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
میٹنگ میں نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر خلیل الرحمان، چیف ایڈوائزر کے خصوصی معاون برائے دفاع و قومی ہم آہنگی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالحفیظ اور ہوم منسٹری کے سینیئر اہلکار بھی موجود تھے۔
بی ڈی آر بغاوت کیا ہے؟بی ڈی آر بغاوت 2009 میں بنگلہ دیش کی ایک بڑی فوجی بغاوت تھی، جس میں بنگلہ دیش رائفلز بی ڈی آر کے اہلکاروں نے اپنے ہی افسران کے خلاف ہنگامہ اور تشدد کیا۔ یہ واقعہ ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز فوجی بحرانوں میں سے ایک تھا۔
بنگلہ دیش رائفلز (بی ڈی ایف) ایک نیم فوجی فورس تھی جو سرحدی حفاظت اور داخلی سیکیورٹی کے کام کرتی تھی۔ اہلکاروں نے اپنی تنخواہوں، مراعات اور پروموشنز کے حوالے سے شدید نارضایتی ظاہر کی، جس کے بعد بغاوت پھوٹ پڑی۔
2009 میں پیلکھانہ ہیڈکوارٹرز میں بی ڈی آر کے اہلکاروں نے اپنے افسران پر حملہ کیا، اس دوران کئی فوجی افسران اور اہلکار ہلاک جاں بحق ہوئے، اس دوران درجنوں افراد بھی زخمی ہوئے۔ بغاوت نے ملک میں شدید خوف اور تشویش پیدا کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بغاوت بنگلہ دیش حسینہ واجد عوامی لیگ فوج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بغاوت بنگلہ دیش حسینہ واجد عوامی لیگ فوج عوامی لیگ بنگلہ دیش بی ڈی آر بی ڈی ا کے لیے یہ بھی
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔