دماغی ارتقا کے پانچ عہد: انسانی ذہانت، شخصیت اور بڑھاپے کی سائنس کا نیا افق
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انسانی دماغ صدیوں سے سائنسی تحقیق کا سب سے پیچیدہ اور پراسرار میدان رہا ہے۔ کبھی اسے ایک جامد عضوی سمجھا جاتا تھا، مگر جدید نیورو سائنس نے یکسر مختلف تصویر پیش کی ہے ایک ایسا دماغ جو مسلسل بنتا، بگڑتا، سنورتا اور نئے سانچوں میں ڈھلتا رہتا ہے۔ تازہ ترین جامع تحقیق نے انسانی ذہنی ارتقا کے پانچ واضح ’’عہد‘‘ متعین کر دیے ہیں، جن میں چار بڑے فیصلہ کن موڑ 9، 32، 66 اور 83 سال کی عمر میں رونما ہوتے ہیں۔ یہ وہ عمرانی مقام ہیں جہاں دماغ گویا ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے اور پورا نظام اپنی سمت بدلنے لگتا ہے۔ یہ تحقیق نہ صرف دماغی نشوونما کے بارے میں روایتی مفروضوں کو چیلنج کرتی ہے بلکہ انسانی شخصیت، ادراک، فیصلہ سازی، سماجی رویوں اور بڑھاپے کے عمل کو سمجھنے کے لیے ایک نئی بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔ پیدائش سے 9 سال تک کا دور دماغ کے لیے ایک ہنگامہ خیز تعمیراتی مرحلہ ہے۔ اس عرصے میں اعصابی خلیوں کے درمیان کروڑوں نئے روابط بنتے بھی ہیں اور ختم بھی ہو جاتے ہیں۔ اسے ’’نیورونل پروننگ‘‘ یعنی دماغی شاخ سازی کی چھانٹی کا مرحلہ کہا جاتا ہے۔ بچہ اپنے حواس، زبان، حرکات، جذبات اور ماحول سے تعامل کے ذریعے ذہنی نقشے تشکیل دیتا ہے اور دماغ کے مختلف حصے مخصوص ذمے داریاں سنبھالتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 9 سال کی عمر ذہنی ارتقا کا پہلا بڑا سنگ میل ہے جہاں ابتدائی ساختی تبدیلیوں کا پہلا دور مکمل ہوتا ہے اور دماغ نسبتاً منظم فعالیت کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ اسی بنیاد پر آنے والی ذہانت اور سیکھنے کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔
بچپن سے نکل کر دماغ نوجوان دور میں داخل ہوتا ہے، مگر یہ مرحلہ محض عمر کا نہیں بلکہ دماغی کارکردگی کے ارتقائی سفر کا بھی ہے۔ اس عرصے میں فیصلے کرنے کی صلاحیت، خطرے کا تجزیہ، جذباتی ضبط، تخلیقی قوت، سماجی فہم اور مشاہداتی دانائی تیزی سے بڑھتی ہے۔ تحقیق کے مطابق 32 سال کی عمر نوجوان دماغ کے ارتقا کا نقطہ ٔ عروج ہے۔ اگرچہ عمومی تصور یہی تھا کہ دماغ 18 یا 20 سال کی عمر میں بالغ ہو جاتا ہے، لیکن جدید تحقیق کے مطابق اصل دماغی بلوغت 30 کی دہائی میں پہنچ کر مکمل ہوتی ہے، خصوصاً 32 سال کے آس پاس جب دماغ اپنی تنظیم، کارکردگی اور داخلی توازن کی بہترین سطح اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی شخصیت پختہ سانچے میں ڈھلتی ہے۔ ذہانت، سوچنے کا اسلوب، رویوں کی ساخت، فیصلہ سازی اور اخلاقی ترجیحات تک ایک باقاعدہ نظام میں سمٹ آتے ہیں۔ 32 سال کے بعد شروع ہونے والا دور استحکام، مہارت اور عملی دانائی کا زمانہ ہے۔ اس عرصے میں دماغ نسبتاً پْرسکون مگر انتہائی مستحکم ہوتا ہے۔ تجربے، مشاہدے، کوشش اور غلطی کے عمل سے انسان عملی حکمت کی بلندیوں تک پہنچتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ 32 سے 66 سال تک دماغ کئی علمی اور مہارتی صلاحیتوں کو اپنی بہترین سطح پر پہنچا دیتا ہے جن میں تجزیاتی سوچ، زبان کی مہارت، سماجی فہم، پیشہ ورانہ تجربہ اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت شامل ہیں۔ اسے ’’کگنیٹیو فارم‘‘ کا دور قرار دیا جاتا ہے۔ اگرچہ یادداشت میں ہلکی کمی محسوس ہو سکتی ہے لیکن ذہنی پختگی، فیصلہ سازی اور احساسِ ذمے داری کی قوت عروج پر رہتی ہے۔
زندگی کے 66 ویں برس کے قریب انسانی دماغ ایک اور بڑی تبدیلی سے گزرتا ہے۔ اسے ابتدائی بڑھاپے کا ذہنی افق کہا جاتا ہے۔ اعصابی روابط کی رفتار کم ہونے لگتی ہے، خون کی ترسیل میں کمی آتی ہے اور چند حصوں میں تنزلی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں یادداشت کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے، نئی معلومات سیکھنے میں وقت بڑھ جاتا ہے مگر تجربے کی گہرائی اور زندگی کی دانائی بڑی حد تک برقرار رہتی ہے۔ یہ دور ذہنی صحت کے لحاظ سے نہایت حساس ہے۔ صحت مند طرزِ زندگی، سماجی سرگرمیاں، جسمانی ورزش اور ذہنی مشقیں دماغی تنزلی کی رفتار کم کر سکتی ہیں، بعض صورتوں میں اسے روک بھی سکتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق 83 سال کی عمر ذہنی بڑھاپے کا آخری فیصلہ کن موڑ ہے۔ اس مرحلے میں اعصابی خلیے کمزور پڑتے ہیں، رابطے گھٹتے ہیں اور دماغی حجم میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس عمر میں توجہ مرکوز رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، تازہ یادداشت متاثر ہوتی ہے اور فیصلہ سازی کی رفتار کم ہو جاتی ہے، مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ کئی افراد اسی عمر میں غیر معمولی ذہنی شفافیت اور روحانی گہرائی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو شاید تجربے اور زندگی کی گہری تفہیم کا نچوڑ ہوتی ہے۔
یہ تحقیق صرف سائنسی دریافت نہیں بلکہ انسانی زندگی کے پانچ بڑے ادوار کی نئی تشریح بھی ہے۔ ہم عام طور پر زندگی کو جوانی، درمیانی عمر اور بڑھاپے کی روایتی تقسیم میں دیکھتے ہیں، مگر نیورو سائنس نے اسے زیادہ لطیف اور حقیقت کے قریب بنا دیا ہے۔ اس کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ دماغ مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے، ہر عمر کا اپنا ذہنی جمال اور اپنی مخصوص ذہنی طاقت ہوتی ہے، اور بڑھاپا دماغ کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ ایک نئے ذہنی اسلوب کا آغاز ہے۔ جدید تحقیق ہر دور میں ذہنی صحت کے لیے نئی حکمت ِ عملی بھی تجویز کرتی ہے۔ بچپن میں زیادہ سیکھنے کا ماحول، نوجوانی میں جذباتی نظم، بالغ دور میں ذہنی وسعت، 60 کی دہائی کے بعد صحت مندانہ سرگرمیاں اور بڑھاپے میں ذہنی ارتباط کو برقرار رکھنے کے طریقے اس سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں۔
انسانی دماغ اپنی پیچیدگی میں ایک پوری کائنات ہے۔ یہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ دماغ کا ارتقا کسی ایک موڑ پر آکر نہیں رک جاتا بلکہ پوری زندگی ایک مسلسل سفر کی صورت جاری رہتا ہے۔ 9، 32، 66 اور 83 سال کے یہ چار موڑ دراصل زندگی کے نئے ابواب ہیں جن میں ہر دور اپنے اندر نئی فہم، نئی صلاحیت اور نئی شناخت لیے ہوتا ہے۔ انسانی ذہن اپنی پوری زندگی میں پختہ بھی ہوتا ہے، کمزور بھی، مگر کبھی جامد نہیں بنتا۔ شاید یہی انسانی عظمت کا روشن ترین پہلو ہے کہ ذہنی تکمیل عمر کے ہر مرحلے میں ایک نئی صورت اختیار کرتی رہتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تحقیق کے مطابق اور بڑھاپے فیصلہ سازی سال کی عمر دماغ کے ہوتا ہے ہوتی ہے کہ دماغ ہے اور
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر