WE News:
2026-06-03@06:19:17 GMT

پنک موبائل پولیس وین کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

پنک موبائل پولیس وین پنجاب حکومت کی ایک نئی اور انقلابی سہولت ہے، جو خاص طور پر خواتین کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کرائی گئی ہے۔ یہ ایک موبائل پولیس اسٹیشن اور لائسنسنگ یونٹ کی صورت میں کام کرتی ہے، جو گھر کی دہلیز پر پہنچ کر پولیس اور لائسنس سے متعلق خدمات فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت: خواتین میں پہلی مرتبہ بائیک رائیڈنگ کا رجحان

اس وین میں خواتین ایف آئی آر درج کروا سکتی ہیں، لرنر،لائسنس اور انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس جاری یا تجدید کروا سکتی ہیں، کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرسکتی ہیں، اور دیگر پولیس خدمت سینٹر کی سہولیات دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ اس وین میں ڈرائیونگ کے لیکچرز اور ہنر کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔

یہ خواتین کی خودمختاری اور انصاف تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ بہت سی خواتین پولیس اسٹیشن جانے سے گریز کرتی ہیں، اس لیے یہ وین ان کی دہلیز پر خدمات لے آتی ہے، جو خواتین کی بااختیاری اور تحفظ کی علامت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد پولیس میں خواتین کا کردار مردوں سے کم نہیں، آئی جی اسلام آباد کا عالمی یوم خواتین پر پیغام

اب تک پنجاب بھر میں 33 موبائل پولیس اسٹیشن چل رہے ہیں، جن میں سے 7 پنک وینز خاص طور پر خواتین کے لیے ہیں۔ یہ یونیورسٹیوں، کالجوں، کام کی جگہوں اور دور دراز علاقوں میں باقاعدگی سے جاتی رہتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان پنجاب پنک وین خواتین ڈرائیونگ لائسنس لیکچرز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پنک وین خواتین ڈرائیونگ لائسنس لیکچرز موبائل پولیس

پڑھیں:

چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں

یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔

فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔

واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں