پیرآباد فرنٹیئر کالونی میں 10 سالہ مریم مبینہ طور پر اغوا، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سائٹ کے علاقے پیرآباد، فرنٹیئر کالونی میں ایک 10 سالہ بچی مریم مبینہ طور پر اغوا کر لی گئی ہے، پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پیر آباد تھانے میں بچی کی والدہ کی مدعیت میں درج مقدمے کے مطابق دس سالہ مریم کو اغوا کیا گیا ہے، بچی گھر کے باہر کھیل رہی تھی اور پھر واپس نہیں آئی، جب اس کی تلاش کی گئی تو کہیں نہیں ملی۔والدہ نے اپنے پڑوسی پر شک کا اظہار کیا، اور مقدمے میں پڑوسی حیدر شاہ کو نامزد کیا ہے، والدہ نے پولیس سے اپیل کی ہے کہ اس کی بچی کو جلد بازیاب کروایا جائے۔پیر آباد پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے اور بچی کو تلاش کیا جا رہا ہے۔دریں اثنا کیماڑی کے مختلف علاقوں میں پولیس کے سرچ آپریشن میں 2 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ 4 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، یہ آپریشن جرائم پیشہ افراد کے خلاف کیا گیا۔ایس ایس پی کیماڑی امجد شیخ کے مطابق سرچ آپریشن میں خواتین پولیس اور تکنیکی عملہ موجود تھا، 75 سے زائد گھروں کی تلاشی لی گئی، فنگر پرنٹ کے ذریعے مشتبہ افراد کے کوائف کی تصدیق کی گئی، کرایے پر مکان لینے والے افراد کی پولیس ویری فکیشن چیک کی گئی اور چائے کے ہوٹلوں پر بیٹھے 100 سے زائد افراد کا ریکارڈ چیک کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔