اسلام آباد دنیا کے کن شہروں کے ساتھ ’سسٹر سٹی‘ کا تعلق رکھتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد نہ صرف اپنی قدرتی خوبصورتی، جدید منصوبہ بندی اور پُرامن ماحول کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے بلکہ اب بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں بھی نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ شہر نے مختلف ممالک کے دارالحکومتوں کے ساتھ سسٹر سِٹی (Sister City) معاہدوں کے ذریعے عالمی تعاون اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی راہ ہموار کر لی ہے۔ ان معاہدوں کا مقصد ثقافتی، تعلیمی، تجارتی اور شہری ترقی کے شعبوں میں باہمی اشتراک کو فروغ دینا ہے۔
جکارتہ، انڈونیشیا1984 میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور جکارتہ کے درمیان طے پانے والے سسٹر سِٹی معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے سی ڈی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے جامع تجاویز پیش کرے۔ منصوبے کے تحت اسلام آباد اور جکارتہ میں ایک دوسرے کے قومی رہنماؤں کے نام پر سڑکوں کی نام گذاری اور باہمی یادگاروں کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد اور اردن کے دارالحکومت عمان کے درمیان 1998 میں سسٹر سِٹی تعلق قائم ہوا۔ اس اشتراک کا مقصد ثقافتی، تعلیمی اور شہری ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانا ہے۔ دونوں شہروں کے درمیان اشتراکِ کار کو مزید فروغ دینے کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔
انقرہ (ترکیہ)اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان سسٹر سِٹی معاہدہ 1982 میں طے پایا، جو پاکستان اور ترکیہ کے قریبی سیاسی و ثقافتی روابط کی عکاسی کرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت شہری انتظام، تعلیم اور معاشرتی ترقی کے منصوبوں میں تعاون جاری ہے۔
بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان 1992 میں سسٹر سِٹی معاہدہ ہوا، جس کے تحت دونوں شہروں نے اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دیا۔
اسی سلسلے کی توسیع کے طور پر، تیانجن اور اسلام آباد کے درمیان ستمبر 2021 میں ’لیٹر آف انٹینٹ‘ پر دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور چین کے درمیان وسیع تر دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کی کاوش ہے۔
آستانہ (قزاقستان)اسلام آباد اور آستانہ کے مابین 2004 میں سسٹر سِٹی کے تعلق کو باضابطہ شکل دی گئی۔ دونوں شہروں نے ثقافتی اور شہری ترقی کے منصوبوں میں اشتراک کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق، رواں سال 2025 میں اسلام آباد اور آستانہ کے درمیان اس تعلق کو مزید مضبوط بنانے کے لیے باضابطہ معاہدے کے اعلان کا امکان ہے۔ منصوبے میں اقتصادی تعاون، سیاحت کے فروغ اور اسلام آباد کی خوبصورتی کے منصوبوں میں اشتراک بھی شامل ہوگا۔
ان تمام معاہدوں کا مقصد اسلام آباد کو عالمی سطح پر ترقی یافتہ دارالحکومتوں کی صف میں شامل کرنا اور مقامی سطح پر بین الاقوامی تعاون کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ یہ اقدامات ثقافتی تبادلوں، سرمایہ کاری، سیاحت، تعلیم اور جدید شہری منصوبہ بندی کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد انڈنیشیا بیجنگ ترکیہ عمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد انڈنیشیا ترکیہ اسلام آباد اور کے درمیان سسٹر س ٹی کو مزید ترقی کے کے لیے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔