سولر انرجی کت استعمال میں پاکستان نے چین اور بھارت کو پیچھے چھوڑدیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
لاہور (کامرس رپورٹر) سولر انرجی کے استعمال میں پاکستان نے چین اور بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا۔ سستی سولر انرجی کے باعث پاکستان میں اس کا استعمال چین اور بھارت سے بھی تجاوز کر گیاہے۔ وطن عزیز میں بجلی کے بڑھتے ہوئے ٹیرف اور لوڈ شیڈنگ کے باعث، صنعتی زون، فیکٹریاں، کارخانے، کاروباری افراد سمیت عوام کی بڑی تعداد سولر انرجی استعمال کرنے لگی۔ ٹرینا سٹوریج ڈویژن کے صدر مسٹر یانگ بائو کا کہنا ہے بلوم برگ انرجی فنانس نے مسلسل 8ویں مرتبہ ٹرینا سولر کو انرجی سٹوریج کو بہترین مینو فیچرنگ کے اعزاز سے نوازا ہے۔ نیپرا کے اعداو شمار کے مطابق نیٹ میٹرنگ سے سولر انرجی کی پیداوار 174گیگا واٹ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ جبکہ برطانوی تھنک ٹینک امبر کے مطابق پاکستان کا ایشیا میں سولر کے استعمال میں شئیر چین اور بھارت جیسے ممالک سے بھی آگے نکل چکا ہے جبکہ ٹرینا سولر اپنی بہترین کارکرد گی کی وجہ سے100 سے زائد ممالک میں 23سروس سینٹر قائم کرکے دنیا بھر میں سر فہرست ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :