کراچی میں مظاہرہ؛ حلیم عادل شیخ سمیت پی ٹی آئی کے متعدد خواتین و مرد کارکنان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
کراچی پریس کلب کے باہر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنان کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق عمران خان سے ملاقاتوں کی کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کراچی ڈویژن نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کی کوشش کی۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنان کے احتجاج سے قبل ہی پولیس کی بھاری نفری کراچی پریس کلب کے باہر پہنچی اور پھر دھاوا بول کر پی ٹی آئی سندھ کے صدر و سابق رکن قومی اسمبلی حلیم عادل شیخ سمیت دیگر کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔
پی ٹی آئی ترجمان کے مطابق پولیس نے دوا خان، معظم خان، یاسر بلوچ، انور مہدی، رضا یاسر سمیت دو درجن سے زائد کارکنان کو گرفتار کیا جبکہ خواتین کارکنان کو بھی حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔