ججز کا تقرر؛ جوڈیشل کمیشن اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام آباد:
گزشتہ روز ہونے والے جوڈیشل کمیشن اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا، جس میں جسٹس محسن اختر کیانی کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی رائے مسترد کردی گئی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اس اہم اجلاس میں جسٹس منیب اختر نے جسٹس محسن اختر کیانی کو سپریم کورٹ کا جج لگانے کی رائے دی اور ان کی اس رائے سے جوڈیشل کمیشن کے کسی ممبر نے اتفاق نہیں کیا۔
اجلاس کے حوالے سے ذرائع نے مزید بتایا کہ جسٹس محسن اختر کیانی کو سپریم کورٹ جج لگانے کا واحد ووٹ جسٹس منیب اختر نے دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز منعقد ہونے والے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں جسٹس ظفر احمد راجپوت کو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور جسٹس محمد کامران ملا خیل کو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعینات کرنے کی متفقہ طور پر سفارش کی گئی جب کہ اکثریتی فیصلے کے ذریعے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ کا مستقل جج تعینات کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق جسٹس ظفر احمد راجپوت اور جسٹس محمد کامران خان ملا خیل اپنی متعلقہ ہائی کورٹس میں قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو اکثریتی رائے سے مستقل جج سپریم کورٹ تعینات کرنے کی سفارش کی گئی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ایکٹنگ جج سپریم کورٹ تعینات ہیں۔
اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے رولز تشکیل دینے کے لیے اکثریتی رائے سے کمیٹی تشکیل دیدی ۔ رولز کمیٹی 5 ارکان پر مشتمل ہوگی۔ کمیٹی میں وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس عامر فاروق، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، سینیٹر فاروق نائیک، علی ظفر، احسن بھون شامل ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کو سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز