کراچی نیپا چورنگی میں بچے کے نالے میں گرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں نیپا چورنگی کے قریب مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والے 3 سالہ ابراہیم کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آ گئی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا گیا کہ بچے کا والد موٹرسائیکل کے قریب موبائل فون استعمال کر رہا تھا اور بچہ ماں کے ساتھ چل رہا تھا کہ اچانک تیزی سے باپ کی طرف بڑھتے ہوئے مین ہول میں جا گرا۔
https://jasarat.com/wp-content/uploads/2025/12/AQMdk2_ZforutYCFQq-x6Ayw7YyFtYy511R2b6Edcraux-RmXCPwWqEfUdU2R5fZyZGr982eYeAzi-jlyKVbOA9J8rYKT3qS-hN2-x-GRNHzXQ.mp4
ویڈیو کے مطابق بچے کے گرتے ہی ماں دوڑتی ہوئی آئی اور باپ بھی فوری مین ہول کی جانب پہنچا، لیکن بچہ نہ ملا۔ ان کی چیخ و پکار پر لوگ جمع ہو گئے۔
واضح رہے کہ ابراہیم کی لاش 14 گھنٹے طویل ریسکیو آپریشن کے بعد برآمد ہوئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔