بینظیر انکم سپورٹ پروگرام: معذور افراد کی شمولیت کیلیے اہم اقدام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں معذور افراد کو شامل کرنے کیلئے اہم اقدام اٹھا لیا گیا۔
چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ یہ افراد ہمارے معاشرے کا قابل احترام اور اہم حصہ ہیں، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع تک مساوی رسائی ہر معذور فرد کا بنیادی حق ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی ترجیحی بنیادوں پر معذور افراد کی فلاح، معاونت اور معاشی شمولیت کیلیے سرگرم ہے، ان افراد کیلیے باعزت اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہمارا سماجی و اخلاقی فرض ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی نے معذور افراد کی پروگرام میں شمولیت کو یقینی بنانے کیلیے پی ایم ٹی اسکور کی حد کو 32 سے بڑھا کر 37 کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم عہد کرتے ہیں کہ آئندہ بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پلیٹ فارم سے بلا تفریق ملک کے تمام معذور افراد کی بہتری کیلیے اقدامات جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک سماجی فلاحی پروگرام ہے جو غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔
پروگرام کا مقصد غربت کم کرنا، معاشی استحکام دینا اور خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانا ہے، اس کے تحت اہل خاندانوں کو باقاعدگی سے نقد امداد دی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام معذور افراد کی
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔