معاشرے میں خواتین کے حقوق کے اقدامات کیے جائیں، حیدر علی ابڑو
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کندھکوٹ(نمائندہ جسارت)معاشرے میں خواتین کے حقوق کے لیے بہتر اقدامات کیے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار کنسلٹنٹ صوبائی محتسب سندھ کشمور ریٹائرڈ سیشن جج حیدر علی ابڑو نے ڈیوٹی کے دوران خواتین کو ہراساں کرنے کے لیے کی گئی میٹنگ کے دوران کیا۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین صوبائی محتسب سندھ جسٹس (ر) شاہنواز طارق کی ہدایات پر آج MCH سنٹر میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سید اعجاز علی شاہ کے زیر انتظام ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، محکمہ سماجی بہبود میں کام کرنے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروٹیکشن وومن ایٹ ورک پلیس کے بارے میں آگاہ کیا سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کنسلٹنٹ صوبائی محتسب سندھ کشمور نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کے بارے میں عام لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا ہے۔ تا کہ خواتین کے حقوق کو عام لوگوں میں پہنچایا جا سکے۔ خواتین کے تحفظ کے حوالے سے حکومت کی جانب سے سخت قوانین ہیں جن میں خواتین معاشرے میں بغیر کسی خوف کے رہ سکتی ہیں۔ صوبائی محتسب کی ہدایات پر، ضلع کشمور میں ایک تحفظ کا دفتر قائم کیا ہے، جہاں لڑکیاں اپنی ملازمت کے دوران ہراساں کرنے کی درخواست جمع کر سکتی ہیں، جس کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر کیا جائے گا اور درخواست گزار خواتین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔ ضلع کشمور میں خواتین کے حقوق کے بارے میں جلد ہی سیمینار منعقد کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خواتین کے حقوق میں خواتین
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔