تنخواہ دار اور کارپوریٹ طبقے کیلیے ٹیکس ریلیف تجاویز آئی ایم ایف کو بھیجنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: حکومت نے مختلف شعبوں کے لیے تیار کیے گئے ٹیکس ریلیف اقدامات کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ تنخواہ دار طبقے اور کارپوریٹ سیکٹر کے لیے مجوزہ ریلیف کے اہم نکات آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں شامل کیے جائیں تاکہ ان پر عملدرآمد کی راہ ہموار ہو سکے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب انکم ٹیکس ریفارمز پینل نے اپنی جامع سفارشات وزیراعظم کے سامنے پیش کیں، جن میں مجموعی طور پر 975 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کی تجاویز شامل تھیں۔ پینل نے اس ریلیف کے ذریعے ٹیکس دہندگان خصوصاً تنخواہ دار طبقے کو قابلِ ذکر سہولت دینے پر زور دیا ہے اور ان پر ٹیکس بوجھ میں 25 فیصد کمی کی تجویز دی ہے۔
اجلاس کے دوران سامنے آنے والی سفارشات میں انکم ٹیکس سرچارج کا خاتمہ، غیر ملکی اثاثوں پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس کی واپسی اور کئی ایسے ٹیکسوں کو ختم کرنے کی تجاویز شامل ہیں جنہیں نجی شعبہ ایک عرصے سے غیر منصفانہ قرار دیتا آیا ہے۔
ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں مزید بتایا گیاہ ے کہ ان تجاویز پر فوری عملدرآمد کی صورت میں 600 ارب روپے سے زائد ریلیف ممکن ہے، تاہم آئی ایم ایف پروگرام کی پابندیوں کے باعث حکومت صرف انہی اقدامات پر آگے بڑھے گی جنہیں فنڈ کی جانب سے منظوری مل سکے۔
حکومتی پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں وہی فیصلے قابلِ عمل ہیں جو بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی شرائط سے مطابقت رکھتے ہوں، اس لیے ریلیف کے کسی بھی بڑے پیکیج کو آئی ایم ایف کی منظوری کے بغیر آگے بڑھانا ممکن نہیں ہوگا۔
اس حوالے سے ورکنگ گروپ کے چیئرمین شہزاد سلیم نے اجلاس میں بتایا کہ انکم ٹیکس کے متعدد موجودہ قوانین کاروباری طبقے پر غیرضروری بوجھ ڈالتے ہیں اور ان کا خاتمہ ملکی معیشت کو سانس لینے کا موقع دے سکتا ہے۔
اجلاس میں نجی شعبے کی رائے یہ سامنے آئی کہ سب سے پہلے سپر ٹیکس، منیمم انکم ٹیکس، کارپوریٹ ڈیویڈنڈ ٹیکس، سندھ انفراسٹرکچر سیس، پنجاب سیس، ایکسپورٹرز پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور ورکرز ویلفیئر ٹیکس جیسے سنگین مالیاتی بوجھ کو ختم کیا جانا چاہیے۔
تجاویز کے مطابق صرف سپر ٹیکس کے خاتمے سے 190 ارب روپے کا ریلیف ممکن ہے جب کہ کارپوریٹ ٹیکس ریٹ کو 25 فیصد تک لانے سے 170 ارب روپے کی اضافی سہولت مل سکتی ہے۔ اسی طرح تنخواہ دار طبقے کے لیے 120 ارب روپے کے ریلیف کی سفارش بھی کی گئی ہے، جسے کاروباری برادری نے ایک ناگزیر قدم قرار دیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کردی ہے جو سفارشات کا تفصیلی جائزہ لے کر انہیں قابلِ عمل شکل دینے کے لیے روڈ میپ تیار کرے گی۔ کمیٹی میں شہزاد سلیم اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی بھی شامل ہوں گے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کاروباری طبقہ ایک طویل عرصے سے ٹیکس سسٹم کی پیچیدگیوں کا ہدف بنا ہوا ہے اور ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ایسے ٹیکس ختم کرنا ضروری ہیں جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومت برآمدات کی بنیاد پر معاشی ترقی کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے اور ٹیکس دہندگان کے کاروبار ہی ملک کی ٹیکس آمدن کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف تنخواہ دار انکم ٹیکس ارب روپے کے لیے
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔