دنیا میں نئے تنازعات امن کیلئے خطرہ، مذاکرات اور سفارتکاری کے حامی ہیں: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
دنیا میں نئے تنازعات امن کیلئے خطرہ، مذاکرات اور سفارتکاری کے حامی ہیں: اسحاق ڈار WhatsAppFacebookTwitter 0 3 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دنیا میں بڑھتے تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں، تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارتکاری کے حامی ہیں۔
اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے، عالمی معاشی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے، جنوبی ایشیا کو غربت، ناخواندگی، ناگہانی آفات سمیت دیگر چیلنجز درپیش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی اور غذائی قلت کے چیلنجز سنگین ہوتے جا رہے ہیں، درجہ حرارت میں اضافے اور سیلابوں کے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جنوبی ایشیا میں سکیورٹی کا منظر نامہ بھی بہت پیچیدہ ہے، پاکستان تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اورسفارتکاری کی حمایت کرتا ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مئی میں پاک بھارت جنگ بھی خطرناک ثابت ہوسکتی تھی، بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا، اسرائیل نے فلسطین وغزہ میں انسانیت کا قتل عام کیا، دیرینہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے سے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا سب سے زیادہ آبادی والا خطہ ہے، جنوبی ایشیا کے ممالک کو اپنے مسائل کے حل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، مشترکہ خوشحالی کے لئے علاقائی روابط اہم ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمیانمار میں آن لائن فراڈ سینٹرز کے خلاف کارروائی، 38 پاکستانیوں سمیت سیکڑوں غیر ملکیوں کی بازیابی میانمار میں آن لائن فراڈ سینٹرز کے خلاف کارروائی، 38 پاکستانیوں سمیت سیکڑوں غیر ملکیوں کی بازیابی واشنگٹن میں افغان شہری کی فائرنگ، عدالت میں ملزم کا حیران کن مؤقف سامنے آگیا آٹھ جنگیں رکوائیں ہر جنگ پر نوبل انعام ملنا چاہیے لیکن میں لالچی نہیں بننا چاہتا، ٹرمپ ٹرمپ انتظامیہ نے 19 ممالک کے تارکین وطن کی امیگریشن درخواستیں روک دیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کم عمر بچوں کو سمارٹ کارڈ، موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس کے اجراکا اعلان برآمدات میں اضافے پر مبنی معاشی ترقی کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں، وزیراعظمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جنوبی ایشیا مذاکرات اور اسحاق ڈار
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔