13ویں فارما ایشیا 2025 کا کراچی ایکسپو سینٹر میں شاندار آغاز، 8 ہزار سے زائد ماہرین کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
13ویں فارما ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن اینڈ کانفرنسز کا کراچی ایکسپو سینٹر میں شاندار آغاز ہوگیا۔ افتتاحی تقریب میں پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سینئر عہدیداران، غیر ملکی وفود اور معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اظہر علی ڈاہر سمیت متعدد سرکاری و نجی شعبے کی شخصیات نے ایونٹ کا دورہ کیا، جبکہ نمائش کے پہلے ہی روز 8 ہزار سے زائد فارما پروفیشنلز کی شرکت نے ایونٹ کو غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
مزید پڑھیں: کراچی میں یوم آزادی کی رنگا رنگ تقریبات، ایکسپو سینٹر میں معرکہ حق مشاعرہ
رواں برس کے فارما ایشیا میں 750 سے زائد اسٹالز لگائے گئے ہیں، جبکہ 10 مختلف ممالک سے 200 سے زائد غیر ملکی مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ چین کا سب سے بڑا انٹرنیشنل پویلین بھی نمائش کا خصوصی مرکزِ نگاہ بنا ہوا ہے۔
ایونٹ کا انعقاد ای کامرس گیٹ وے پاکستان کے زیرِ اہتمام، پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PPMA) کے اشتراک اور ایس آئی ایف سی کی اسٹریٹجک معاونت سے کیا گیا ہے۔
فارما انڈسٹری کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا کہ گزشتہ سال کی نسبت پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکومت نے آئندہ 5 سال میں برآمدات کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔
مزید پڑھیں: بلیو اکانومی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کا آغاز، 44 ممالک شریک
تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ فارما صنعت میں پالیسی اصلاحات، قیمتوں میں بہتری اور ایس آئی ایف سی کے اصلاحاتی اقدامات، بالخصوص قیمتوں کی ڈی ریگولیشن، سے کاروباری ماحول مزید سازگار ہوگا، جسے فارما سیکٹر میں بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ فارما ایشیا 2025 کو تعاون، نیٹ ورکنگ اور بزنس مواقع کے اعتبار سے خطے کا سب سے بڑا پلیٹ فارم قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
23ویں فارما ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن اینڈ کانفرنسز کراچی ایکسپو سینٹر.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کراچی ایکسپو سینٹر ایکسپو سینٹر فارما ایشیا
پڑھیں:
7ارب ڈالرکافوجی سازوسامان طالبان کےپاس ہے،امریکی انسپکٹرجنرل
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی حکومت کے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (سگار) نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکا نے 20 برس تک جاری رہنے والی افغان جنگ کے دوران افغانستان کی تعمیر نو پر 144 ارب ڈالرز خرچ کیے۔
رپورٹ کے مطابق 2021 میں افغانستان سے اچانک انخلا کے دوران امریکی اور اتحادی افواج اربوں ڈالرز کا فوجی ساز و سامان وہاں چھوڑ آئے جو اب طالبان حکومت کے دفاعی ڈھانچے کا اہم حصہ ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے سکار کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا نے افغانستان میں سات ارب ڈالرز سے زائد مالیت کا اسلحہ چھوڑ دیا تھا جبکہ افغان جنگ کے دوران دو ہزار 450 امریکی فوج ہلاک اور 20 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔
امریکا نے افغانستان میں سول انفراسٹرکچر اور افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کو مضبوط بنانے کے لیے اربوں ڈالرز خرچ کیے لیکن امریکاکے افغانستان سے عجلت میں انخلا کی وجہ سے اربوں ڈالرز کا فوجی ساز و سامان وہاں رہ گیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکانے 20 برسوں کے دوران افغان نیشنل فورسز کے انفراسٹرکچر، فوجی ساز و سامان اور ٹرانسپورٹ کی مد میں 31.2 ارب ڈالرز خرچ کیے۔ امریکا نے افغان فورسز کو 96 ہزار گراﺅنڈ کامبیٹ وہیکلز اور 51 ہزار سے زائد لائٹ ٹیکٹیکل وہیکلز فراہم کیں۔ امریکا نے 23 ہزار 825 ہائی موبیلیٹی ملٹی پرپز وہیکلز اور 900 آرمرڈ کامبیٹ وہیکلز فراہم کیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکانے چار لاکھ 27 ہزار سے زائد ہتھیار اور 17 ہزار سے زائد نائٹ ویڑن ہیلمٹ ڈیوائسز اور 162 طیارے فراہم کیے ہیں
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے کابل پر کنٹرول سے قبل افغان فورسز کے پاس 162 امریکی ساختہ جنگی طیارے تھے، جن میں سے 131 قابل استعمال تھے ۔رپورٹ میں امریکی محکمہ دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا نے لگ بھگ سات ارب ڈالرز کا فوجی ساز و سامان افغانستان میں چھوڑ دیا۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar