انٹرنیشنل باکسنگ چیمپیئن شپ 2025 اختتام پذیر، محمد وسیم نے ورلڈ گولڈ بینٹم ویٹ ٹائٹل جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
لاہور میں ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن کے تعاون سے منعقدہ انٹرنیشنل باکسنگ چیمپیئن شپ 2025 اختتام پذیر ہوگئی۔ 4 روزہ اس چیمپیئن شپ میں 15 ممالک کے 44 باکسرز نے حصہ لیا اور شائقین کو 21 سنسنی خیز مقابلوں سے محظوظ کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا ایک اور اعزاز، باکسنگ چیمپیئن کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا
چیمپیئن شپ کے دوران پاکستانی اور غیر ملکی مہمان باکسنگ کے دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلوں سے لطف اندوز ہوئے۔ چیمپیئن شپ کے سب سے نمایاں لمحات میں پاکستانی باکسر محمد وسیم کا تھائی باکسر جکراوت کو شکست دے کر ورلڈ گولڈ بینٹم ویٹ ٹائٹل جیتنا شامل ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اختتامی تقریب میں کہا کہ وہ پاک فوج کی عسکری قیادت کی شکر گزار ہیں جن کے تعاون سے یہ چیمپیئن شپ ممکن ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی باکسنگ چیمپیئن شپ پاکستان کی اسپورٹس سافٹ پاور اور خطے میں باکسنگ کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
مزید پڑھیں: انٹرنیشنل رینکنگ فائٹ: آصف ہزارہ نے انڈونیشی حریف کو دھول چٹا دی
ان مقابلوں کے انعقاد سے پاکستان میں باکسنگ جیسے کھیلوں کے مزید فروغ اور عالمی سطح پر ملک کے کھیلوں کے معیار کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنیشنل باکسنگ چیمپیئن شپ محمد وسیم ورلڈ گولڈ بینٹم ویٹ ٹائٹل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل باکسنگ چیمپیئن شپ باکسنگ چیمپیئن شپ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔