جنرل اسمبلی اقوام متحدہ: اسرائیلی افواج فلسطینی علاقوں سے نکل جائے، قرارداد بھاری اکثریت سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منگل کو ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق قرارداد ’’فلسطین کے سوال کے پرامن حل‘‘ کے عنوان سے پیش کی گئی، جس کے حق میں 151 ممالک نے ووٹ دیا، 11 نے مخالفت کی اور 11 نے ووٹنگ سے اجتناب کیا۔
قرارداد میں مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے تمام اہم معاملات پر قابلِ اعتماد مذاکرات فوری طور پر شروع کرنے اور ماسکو میں ایک بین الاقوامی امن کانفرنس بلانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
جنرل اسمبلی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرے، غیر قانونی قبضہ ختم کرے، نئی آبادکاری روکے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے تمام یہودی آبادکاروں کو نکالے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ غزہ میں کسی بھی قسم کی آبادیاتی یا جغرافیائی تبدیلی کو مسترد کیا جاتا ہے، اور غزہ اور مغربی کنارے کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت متحد کیا جانا چاہیے۔
مزید کہا گیا کہ اسرائیل کو 1967 سے قبضے میں لیے گئے تمام فلسطینی علاقوں سے انخلا کرنا ہوگا تاکہ فلسطینی عوام اپنے بنیادی حق—حقِ خود ارادیت—کا استعمال کر سکیں۔
پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ اسامہ افتخار احمد نے بحث کے دوران کہا کہ دنیا کو اپنے وعدوں کو عمل میں تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی، خود مختاری، امن اور انصاف کے مطالبے کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں سیزفائر کا مکمل نفاذ، اسرائیلی فوج کا انخلا، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور غزہ کی فوری تعمیرِ نو ناگزیر ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں کی کوئی جبری تبدیلی، تقسیم، الحاق یا جبری بے دخلی قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف ایک سیاسی راستہ ہی پائیدار امن لا سکتا ہے — یعنی 1967 کی سرحدوں پر ایک خودمختار، مکمل، آزاد اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم (القدس الشریف) ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلسطینی علاقوں سے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔