مولانا فضل الرحمٰن، راجہ محمد ظفر الحق ملاقات، مفاہمت وقومی وحدت پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام آباد(طارق سمیر) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نےسیکرٹری جنرل موتمر العالم الاسلامی سینیٹر راجہ محمد ظفر الحق، نشان امتیاز، کی رہائشگاہ پر تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات میں سینیٹر راجہ محمد ظفرالحق کے فرزند راجہ محمد علی، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل موتمر العالم الاسلامی، نائب صدر مسلم لیگ (ن) پنجاب اور سابق مشیر وزیرِ اعلیٰ پنجاب و سابق ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب بھی موجود تھے۔ ملاقات کے عالمِ اسلام کو درپیش مسائل، خطے کی سیاسی صورتحال اور پاکستان میں جمہوری استحکام کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے باہمی رابطوں، مفاہمت اور قومی وحدت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے راجہ محمد ظفر الحق کی دینی، سیاسی اور سفارتی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی قومی و عالمی سطح پر نمایاں کردار کی تعریف کی۔ اس موقع پر راجہ محمد ظفر الحق اور راجہ محمد علی نے بھی مولانا فضل الرحمٰن کی قومی سیاسی جدوجہد اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحم ن راجہ محمد ظفر الحق
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔