لاہور کے جیلانی پارک میں سالانہ گلِ داؤدی کی نمائش کی تیاریاں مکمل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
ایم ڈی پی ایچ اے راجہ منصور احمد کا کہنا ہے کہ گلِ دودی کی نمائش لاہور کے موسمِ سرما کا حسین تحفہ ہے، نمائش کا افتتاح وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کریں گی، افتتاحی تقریب کو رنگوں اور روشنیوں سے بھرپور بنانے کی تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نمائش ایک ہفتے تک جیلانی پارک میں جاری رہے گی۔ اسلام ٹائمز۔ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی نے 200 اقسام کے 15 ہزار گلِ داؤدی اور 15 ہزار میری گولڈ گملے نصب کر دیئے ہیں۔ نمائش کا افتتاح 4 دسمبر شام 7 بجے ہوگا۔ ایم ڈی پی ایچ اے راجہ منصور احمد نے جیلانی پارک کا دورہ کیا اور نمائش کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ نمائش میں مقابلے کا ماحول بن گیا ہے، باغ جناح، زون 5 گلبرگ اور جیلانی پارک کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ ایچی سن کالج، جی سی یونیورسٹی، ملت ٹریکٹرز سمیت متعدد اداروں نے بھی نمائش میں شرکت کی ہے۔ مغلیہ طرز کا گیٹ، بگھی اور دربان نمائش کے تخلیقی ڈیزائن کا حصہ بنائے گئے ہیں۔
نمائش میں فوڈ پوائنٹس اور ریفریشمنٹ سٹالز شہریوں کی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ دو مغلیہ درباریوں کی خصوصی تیاری کی گئی ہے، جس سے پارک میں تاریخی ماحول کا احساس ہوگا۔ ایم ڈی پی ایچ اے راجہ منصور احمد کا کہنا ہے کہ گلِ دودی کی نمائش لاہور کے موسمِ سرما کا حسین تحفہ ہے، نمائش کا افتتاح وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کریں گی، افتتاحی تقریب کو رنگوں اور روشنیوں سے بھرپور بنانے کی تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نمائش ایک ہفتے تک جیلانی پارک میں جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جیلانی پارک پارک میں
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔