سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ انہوں ںے ’ایسی کی تیسی‘ والی ٹوئٹ پی ٹی آئی کے لیے کی ہے، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات کل بھی نہیں ہوگی۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ تھوڑا سا پیچھے ماضی میں چلے جائیں تو پی ٹی آئی فوج پر اٹیک کرتی نظر آئی جبکہ اس سے پہلے وہ جنرل باجوہ کو جمہوریت بادشاہ کہتی تھی، پی ٹی آئی کہتی تھی کہ فوج آوازیں ٹیپ کرسکتی ہے حتیٰ کہ کمرے کی ویڈیو بنا سکتی ہے، یہ سب بیانیہ عمران خان کا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر راج حقیقت بن سکتا ہے، فیصل واوڈا نے سہیل آفریدی کو خبردار کردیا

فیصل واوڈا نے کہا عمران خان تسبیح لے کر آئی ایس پی آر سے بھی آگے فوج کا سبق پڑھاتے تھے، پھر اس کے بعد وہ آگ بگولہ ہوگئے اور جھگڑا شروع ہوگیا، آج کے چیف آف آرمی اسٹاف کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا گیا، انہیں اس لیے ہٹایا گیا کہ بیگم کی بات نہ بتاؤ، ابا کی نہ بتاؤ یہ سب چوری چکاری ہونے دو۔ اس کے بعد ارشد شریف کا قتل ہوجاتا ہے، وہاں سے معاملہ شروع ہوجاتا ہے، قتل و غارت شروع ہوجاتی ہے، انہی کے لوگ ان پر گولیاں چلا دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان چلے گئے، ان کی اہلیہ ان کی انڈرسٹینڈنگ سے جیل سے باہر آجاتی ہیں، علی امین گنڈاپور آتے ہیں، جاتے ہیں، چائے پیتے ہیں، پھر 9 مئی کے کیسز شروع ہوجاتے ہیں جن کے ثبوت پی ٹی آئی والے خود آکر دیتے ہیں۔ اس کے بعد عمران خان کو جیل کے اندر دھنس دیتے ہیں، کلائنٹس جیل میں ہیں جبکہ سارے وکیل اقتدار میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم پاس ہوچکی، 28ویں ترمیم کی بات کریں، سینیٹر فیصل واوڈا کا دعویٰ

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کمپرومائز کرنے والے لوگ مزے لوٹ رہے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں، عمران خان کو وہاں پہنچا دیا جہاں سے واپسی کا کوئی رستہ نہیں ہے۔ اب ایس آئی ایف سی کے پوسٹر لگا دیے، آرمی چیف کے پوسٹر لگا دیے، گالم گلوچ بریگیڈ لگی ہوئی ہے، ملک کی کوئی فکر نہیں ہے، یہ سب برداشت ہوتا رہا۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ اب جب عمران خان جیل میں ہیں تو کہتے ہیں کہ انہیں کسی سے مسئلہ نہیں ہے، نہ ن لیگ سے، نہ پیپلز پارٹی سے اور نہ کسی اور سے، انہیں صرف عاصم منیر سے مسئلہ ہے۔ عاصم منیر کا مزاج نہیں کہ وہ جواب دیں، وہ سپہ سالار ہیں، اپنے سے 10 گنا بڑی فوج کو شکست دی ہے، افغانستان کے مسئلے سے نمٹ رہے ہیں، بین الاقوامی طور پر کامیابیوں کا لوہا منوا رہے ہیں، لیکن پی ٹی آئی گالیاں دی جارہی ہیں، تماشا ختم ہی نہیں کررہی۔

یہ بھی پڑھیں: ججز کے استعفوں سے قوم کو سمجھ آگئی کون کس جماعت کا سہولتکار ہے، فیصل واوڈا

انہوں نے کہا کہ پھر ملاقات کی بات ہونے لگی، میں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے کہا کہ وہ اسلام آباد نہ آئیں، ملاقات ہوجائے گی۔ وہ نہیں آئے تو ملاقات ہوگئی، اس کے بعد پھر وہی گالم گلوچ شروع ہوگئی، اب سپہ سالار کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی، اب اگر گالی دی تو زبان نکال دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں کا حق ہے ملاقات کا، اگر سیاست کرنی ہے اور مولا جٹ اور تماشا بدمعاشی والی بات ہے تو اب نہیں ہوگا، کیس کے علاوہ کوئی بات ہوگی تو یہ نہیں ملاقات ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو امریکی قونصلیٹ نامنظور تھا پی ٹی آئی کے لیے، پی ٹی آئی کہتی تھی کہ امریکا نے سازش سے حکومت گرائی، میران شاہ میں جوان شہید ہوئے لیکن وزیراعلیٰ امریکیوں سے ملاقات کررہا تھا، میران شاہ نہیں گئے، اب چیف منسٹر کے لیے واضح ہے کہ انہوں نے بدمعاشی کرنی ہے تو فرنٹ فٹ پر سامنے آئیں، ہم نہ فرنٹ رکھیں گے نہ فٹ چھوڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم: سینیٹ میں 67 ارکان کی حمایت موجود تھی، 3 بچا کر رکھے، فیصل واوڈا

انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی نے سیاست میں مزید گند کرنا ہے تو آئے تو صوبے میں گورنر راج کے لیے تیار ہوجائیں۔ گورنر راج کے بعد صوبے میں دباکے ترقیاتی کام ہوں گے اور پوری قوت سے آپریشنز بھی ہوں گے، کے پی میں 9 مئی کے بگھوڑوں کو، جو وہاں پیسا بنا رہے ہیں، گھسیٹا جائے گا، کیسز منطقی انجام تک پہنچیں گے، سہیل آفریدی کی کل بھی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوگی۔

  قبل ازیں فیصل واوڈا نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ذہنی مریض، آنکھ سے اندھے اور کان سے بہرے سن لیں کہ آئین اور قانون کے مطابق فیملی کو صرف حال احوال کیلئے ملاقات کی اجازت ہے، جبکہ وکیل کو کیس سے متعلق ملنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ فیملی کی ملاقاتیں سیاسی پیغامات کا ذریعہ بن رہی ہیں جس کے باعث اب ایسی ملاقاتیں بند کر دی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء نے اگر کیس کے علاوہ کوئی سیاسی پیغام دیا تو وہ بھی روک دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم پی ٹی آئی سمیت تمام پارٹیوں کو ایک جگہ بٹھائیں، فیصل واوڈا کا اے پی سی بلانے کا مطالبہ

فیصل واوڈا نے کہا کہ جیتی ہوئی افواج اور اس کے سپہ سالار کے بارے میں مزید بکواس برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسی ہرزہ سرائی کرنے والوں کی زبان سے جوتے کی سول بنا دی جائے گی۔ ان کے مطابق ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے اور فوج کو بدنام کرنے کی سازشوں کو سختی سے روکا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اصولاً پیار کے بدلے ڈبل پیار، عزت کے مطابق ڈبل عزت، جبکہ بدمعاشی کا جواب ڈبل بدمعاشی سے دیا جائے گا۔ اشتعال انگیزی کرنے والی پارٹی ایسے دوراہے پر آ پہنچی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہے اور اب کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

پیغام میں مزید کہا گیا کہ وزیراعلیٰ نے اگر انچ برابر بھی ہڑا ہُڑی کی تو باقی بچی کُچی سیاست گورنر راج کے ذریعے ختم کر دی جائے گی۔ نو مئی کے وہ عناصر جو خیبر پختونخوا میں چھپے ہوئے ہیں، انہیں بھی اپنی خیر منانی چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان کی طرح پی ٹی آئی پاکستان کی نئی شکل بنے گی، سینیٹر فیصل واوڈا کا دعویٰ

انہوں نے نوٹیفیکیشن کے حوالے سے طنزیہ انداز میں کہا کہ نوٹیفیکیشن نوٹیفیکیشن کرنے والوں کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جلد آ رہا ہے، اب اسے رول کر کے حلق سے اتارنے کی تیاری کر لیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

9مئی we news پی ٹی آئی سہیل آفریدی علیمہ خان عمران خان فیصل واوڈا ملاقات.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سہیل ا فریدی علیمہ خان فیصل واوڈا ملاقات فیصل واوڈا نے کہا کہ سینیٹر فیصل واوڈا انہوں نے کہا کہ یہ بھی پڑھیں سہیل ا فریدی گورنر راج سے ملاقات پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی اس کے بعد جائے گی میں ہیں جائے گا رہے ہیں تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

امن و امان کے لیے مشاورت سے پالیسی بنانا ہوگی، سہیل آفریدی، پولیس کو جدید اسلحہ اور سیکیورٹی آلات حوالے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس لائنز پشاور کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں، جدید اسلحہ و سیکیورٹی آلات با ضابطہ طور پر حوالہ کردیے۔

پولیس کو ڈرونز کیمرے، اینٹی ڈرون گنز، اینٹی ڈرون سسٹمز، تھرمل کیمرے، جیمرز کے ساتھ بلٹ پروف جیکٹس، بیلسٹک ہیلمٹس اور بکتر بند گاڑیاں فراہم کی گئیں۔

اس کے علاوہ سنائپر رائفلز، ڈریگونوف، ایم سولہ، سب مشین گنز اور ہیوی مشین گنز بھی پولیس فورس کے حوالے کی گئیں۔

وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ تھرمل ویپن سائٹس اور تھرمل بائنوکلرز سے پولیس کی رات کی نگرانی مؤثر بنے گی، بلٹ پروف ہیولز، بلٹ پروف ریوو اور سائیڈ آرمَرنگ سے پولیس کی نقل و حرکت مزید محفوظ ہو سکے گی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہاکہ 2018 سے 2022 تک ہم نے امن دیکھا مگر اس کے بعد حالات خراب ہوئے، قیام امن کے لیے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پالیسی بنانا ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ پولیس فورس کو موجودہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جوانوں کے جذبے جوان ہیں، اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہر اول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ پولیس فورس کو ناقابل تسخیر بنایا جائے، پولیس فورس کو موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے مزید اسلحہ و آلات بھی فراہم کیے جائیں گے۔

سہیل آفریدی نے کہاکہ جب ہم 80 ہزار شہدا کی بات کرتے ہیں تو ان میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے جوان بھی شامل ہیں، ہم صوبے میں امن بحال کریں گے اور اسے برقرار بھی رکھیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پالیسی بنے گی تو امن و امان قائم ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسٹیک ہولڈرز امن و امان پالیسی سہیل آفریدی مشاورت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا کا مقدمہ اڈیالہ میں نہیں سرکاری اداروں میں لڑیں، گورنر کا وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو مشورہ
  • وفاق صوبائی حکومت سے مل کر پالیسی بنائے تو وہ پائیدار ہوگی(سہیل آفریدی)
  • وفاق صوبائی حکومت سے مل کر پالیسی بنائے تو وہ پائیدار ہوگی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
  • وفاق پالیسی صوبائی حکومت سے مل کر بنائے تو وہ پائیدار ہوگی، سہیل آفریدی
  • امن و امان کے لیے مشاورت سے پالیسی بنانا ہوگی، سہیل آفریدی، پولیس کو جدید اسلحہ اور سیکیورٹی آلات حوالے
  • پختون قبائلی ہوں، تربیت ایسی نہیں گالیاں دوں،سہیل آفریدی
  • مائنس ون پر نہیں آئے تو پوری پارٹی مائنس ہوگی؛ فیصل واوڈا
  • فیصل واوڈا:مائنس ون نہیں تو پی ٹی آئی پوری مائنس، اب ایک انچ بھی برداشت نہیں کیا جائے گا
  • مائنس ون نہیں تو پوری پی ٹی آئی ختم، فیصل واوڈا نے سخت پیغام دے دیا
  • پی ٹی آئی کے خلاف شکنجہ مزید سخت، کل سے ایسی کی تیسی ہوگی: فیصل واوڈا کا دعویٰ