Express News:
2026-06-03@07:58:17 GMT

سردیوں میں نزلہ و زکام سے کیسے بچا جائے؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

سردیوں کے موسم میں نزلہ و زکام ایک عام شکایت ہے جو زیادہ تر لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ موسم کی تبدیلی، سرد ہوا اور وائرس کی موجودگی ہے، جو ناک اور گلے کے نزلہ، سانس میں رکاوٹ اور بخار جیسے علامات پیدا کرتے ہیں۔

وائرس، خاص طور پر رینو وائرل اور فلو وائرس، سرد اور خشک موسم میں زیادہ متحرک ہوتے ہیں، اور لوگوں کے جسمانی دفاعی نظام کی کمزوری بھی ان کی شدت بڑھا دیتی ہے۔

اس بیماری سے بچاؤ کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہاتھوں کی صفائی کا خیال رکھا جائے، کیونکہ وائرس زیادہ تر ہاتھوں کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ بار بار صابن سے ہاتھ دھونا اور الکحل بیسڈ سینٹائزر استعمال کرنا انتہائی مؤثر ہے۔

اس کے علاوہ، خود کو سرد ہوا سے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ گرم کپڑے، دستانے اور موزے پہننا، اور ناک و منہ کو ڈھانپنا بیماری کے پھیلاؤ کو کم کرتا ہے۔ گھر یا دفتر میں ہوا کی گردش کو بہتر بنانا، اور زیادہ لوگوں والی جگہوں میں ماسک پہننا بھی نزلہ و زکام سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

جسمانی دفاعی نظام مضبوط رکھنے کے لیے مناسب نیند، پانی کی وافر مقدار، اور ذہنی دباؤ کم کرنا لازمی ہے۔

غذائی انتخاب بھی بہت اہم کردار ادا کرتا ہے؛ وٹامن سی سے بھرپور کھانے جیسے سنترہ، مالٹا اور اسٹرابیری، ساتھ ہی وٹامن ڈی کے لیے دودھ اور دہی، اور زنک کے لیے بادام اور کشمش شامل کرنا جسمانی قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔

گرم مشروبات جیسے ہربل چائے اور ہلدی والا دودھ گلے کو سکون دیتے ہیں اور سانس کے راستے کھولتے ہیں۔ لیموں، شہد اور ادرک کے امتزاج سے بھی نزلہ اور زکام کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، زیادہ چکنائی اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ جسم کی مدافعتی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔

نزلہ و زکام کی ابتدائی علامات ظاہر ہوتے ہی آرام کرنا، بھاری کاموں سے گریز کرنا اور اگر ضرورت ہو تو کسی ماہرِ صحت سے مشورہ کرنا بہترین حکمت عملی ہے۔ مجموعی طور پر، ہاتھوں کی صفائی، مناسب لباس، غذائیت بخش خوراک اور صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر سردیوں میں نزلہ و زکام سے کافی حد تک محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نزلہ و زکام کے لیے

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو