دھرمیندر کے انتقال کے بعد ہیما مالنی کا پہلا جذباتی ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
بالی ووڈ کے سینئر اداکار دھرمیندر کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ اور معروف اداکارہ ہیما مالنی نے پہلی بار خاموشی توڑتے ہوئے ایک جذباتی پیغام کے ساتھ اپنی اور دھرمیندر کی یادگار تصاویر شیئر کی ہیں۔
اس پیغام میں ہیمامالنی نے نہ صرف اپنے ذاتی دکھ کا ذکر کیا بلکہ دھرمیندر کی شخصیت اور اُن کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بھی بات کی۔
ہیما مالنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی نوٹ شیئر کیا جس میں انہوں نے دھرمیندر کو اپنے لیے ’’محبت کرنے والے شوہر، ہماری دونوں بیٹیوں کے مہربان باپ، دوست، فلسفی، رہنما اور وہ شخصیت جو ہمیشہ مشکل وقت میں سہارا بنی‘‘ کے طور پر یاد کیا۔
Dharam ji❤️
He was many things to me.
انہوں نے لکھا کہ دھرمیندر کی زندگی کے ہر مرحلے میں ان کی موجودگی ان کے لیے حوصلے اور اعتماد کا ذریعہ رہی۔
اداکارہ نے اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے کہا کہ دھرمیندر کی مقبولیت اور فلمی دنیا میں ان کے بے مثال مقام کے باوجود ان کی عاجزی ہی وہ خوبی تھی جو انہیں دوسرے فنکاروں سے ممتاز کرتی تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دھرمیندر کا کام، ان کی شہرت اور ان کا اثر ہمیشہ زندہ رہے گا، مگر ان کے لیے ذاتی طور پر پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں ہوسکتا۔
Togetherness over the years - always there for us????❤️Some special moments.. pic.twitter.com/xM1ynk8eyl
— Hema Malini (@dreamgirlhema) November 27, 2025ہیما مالنی نے کہا کہ برسوں کی رفاقت نے انہیں بے شمار یادیں دی ہیں، اور دھرمیندر کے چلے جانے کے بعد یہی لمحے اب ان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اپنے پیغام کے ساتھ انہوں نے مختلف پرانی تصاویر بھی شیئر کیں جن میں دونوں مختلف ادوار میں ایک ساتھ نظر آ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ بالی ووڈ کے مشہور اداکار دھرمیندر 24 نومبر کو 89 برس کی عمر میں ممبئی میں انتقال کرگئے تھے، جس کے بعد بھارت سمیت دنیا بھر سے مداحوں نے سوشل میڈیا پر ان کی رحلت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دھرمیندر کی کہ دھرمیندر ہیما مالنی مالنی نے انہوں نے کے بعد
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔