چہرے پر فلر انجیکشن لگوانے کے نئے ممکنہ نقصانات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
چہرے پر کاسمیٹک فلر انجیکشن لگوانے کے نتیجے میں نئی پیچیدگیاں سامنے آگئیں۔
یہ بھی پڑھیں: بڑھتی عمر کا چہرہ قبول کرنا مشکل کیوں، اس کو جاذب نظر کیسے بنایا جائے؟
بی بی سی کے مطابق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چہرے پر کاسمیٹک فلر انجیکشن لگوانے والے افراد کو خطرناک پیچیدگیوں کے بارے میں آگاہ ہونا چاہیے جن میں خون کی نالیوں کا بند ہونا شامل ہے۔ یہ حالت جلد کی خرابی یا شدید صورت میں اندھے پن کا باعث بن سکتی ہے۔
تحقیقی مطالعات اور اسکینزبرازیل کی یونیورسٹی آف ساؤ پالو کی ڈاکٹر روزا سگرسٹ کی قیادت میں محققین نے 100 فلر انجیکشن کے کیسز کا الٹراساؤنڈ کے ذریعے مطالعہ کیا جہاں فلرز کے استعمال سے پیچیدگیاں پیدا ہوئی تھیں۔
نتائج کے مطابق تقریباً نصف کیسز میں چہرے کی سطحی اور گہری شریانوں کو جوڑنے والی چھوٹی خون کی نالیوں میں خون کا بہاؤ نہیں تھا۔
علاوہ ازیں ایک تہائی کیسز میں اہم شریانوں میں خون کی روانی غائب تھی۔
سب سے خطرناک مقامات اور وجوہاتڈاکٹر سگرسٹ کے مطابق ناک کے ارد گرد کے علاقے سب سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ یہاں کی خون کی نالیاں دماغ کے حساس حصوں سے جڑی ہوتی ہیں ان میں نقصان کی صورت میں پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مزید پڑھیے: پانی میں بھیگنے کے بعد ہمارے ہاتھ اور پاؤں پر جھریاں کیوں پڑ جاتی ہیں؟
ان پیچیدگیوں میں جلد کا نقصان، اندھا پن اور اسٹروک شامل ہیں۔
الٹراساؤنڈ کی اہمیتڈاکٹر سگرسٹ کا کہنا ہے کہ فلرز دینے سے پہلے الٹراساؤنڈ کے ذریعے خون کی نالیوں کی شناخت ضروری ہے۔
پیچیدگی کی صورت میں الٹراساؤنڈ کی مدد سے صحیح مقام پر علاج کیا جا سکتا ہے۔
غیر ہدایت شدہ انجیکشنز کی بجائے الٹراساؤنڈ سے رہنمائی حاصل کرنے پر کم دوائی استعمال کر کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
حفاظتی اقداماتبرطانیہ کی برٹش ایسوسی ایشن آف ایسٹھیٹک پلاسٹک سرجنز نے بتایا کہ الٹراساؤنڈ کا استعمال بڑھ رہا ہے لیکن یہ ابھی معیاری یا لازمی طریقہ علاج نہیں۔
مزید پڑھیے: خواتین سخت گرمی میں چہرے کی جلد کو صحت مند کیسے رکھ سکتی ہیں؟
ایسوسی ایشن کی صدر نورا نیوگینٹ نے کہا کہ خون کی نالیوں کا نقشہ بنانا علاج سے پہلے قیمتی معلومات فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیچیدگیاں فلرز کے استعمال میں اضافی محتاط رہنے کی ضرورت کی ایک مثال ہیں۔
حکومتی اقدامات اور ریگولیشنزبرطانیہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ کاسمیٹک پروسیجرز پر نئی پابندیاں لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
صرف اہل اور مستند ہیلتھ کیئر پروفیشنلز اعلی خطرے والے عمل انجام دے سکیں گے۔
فلرز اور بوٹاکس دینے والی کلینکس کو سخت معیار پورا کرنے پر لائسنس دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: جلد پر جھریاں،وقت سے پہلے کیوں پڑ جاتی ہیں؟
پبلک کنسلٹیشن 2026 کے اوائل میں شائع ہوگی، اور پارلیمنٹ نئے قواعد متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چھریوں کے لیے فلرز چہرے پر فلرز لگوانے کے نقصانات چہرے کی جھریاں.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چہرے کی جھریاں خون کی نالیوں فلر انجیکشن چہرے پر
پڑھیں:
ورلڈکپ کی تیاری مکمل—آغا سلمان کا اسکواڈ پر بڑا بیان سامنے آگیا
قومی ٹی 20 ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ سے قبل ٹیم میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھ رہا۔پی سی بی پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ سال میں سب سے زیادہ 58-57 میچز کھیلے ہیں، اس لئے فی الوقت آرام کر رہا ہوں، جنوری سے اپریل تک بہت زیادہ کرکٹ ہے اس لئے اپنے آپ کو ترو تازہ رکھنا چاہتا ہوں، لیگ کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ خود کیا، ڈومیسٹک ون ڈے کپ کھیلوں گا۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں پریشر زیادہ ہوتا ہے، صحیح راستے پر گامزن ہیں امید ہے کہ جلد نمبر ون ٹیم بن جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 6 ماہ سے ورلڈکپ کو مدنظر رکھ کر تیاری کر رہے ہیں، ہمیں وہ کمبی نیشن مل گیا ہے جس کی ہمیں تلاش تھی، ورلڈکپ سے پہلے سکواڈ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھ رہا، ہم نے پچھلے چھ ماہ ان کھلاڑیوں کو آزمایا ہے اور ان کے رولز واضح کئے ہیں، ورلڈکپ سے پہلے چھ میچز میں ان ہی کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہیے، ایسا کرنے سے کھلاڑی کو اعتماد ملے گا اور اچھی پرفارمنس آئے گی۔سلمان علی آغا نے بابراعظم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے بہت اچھے دوست ہیں، بابر اعظم کو کبھی سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑی، ان کو پتا ہوتا ہے کہ وہ کہاں غلط ہیں، بابر اعظم نے پچھلے سات آٹھ سالوں میں پاکستان کیلئے بہترین پرفارمنس دی ہے، آخری دو تین سالوں میں ان سے وہ پرفارمنس نہیں ہوئی جو فینز چاہتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک دوسرے سے بطور دوست بات کرتے ہیں کبھی کپتانی بیچ میں نہیں لائے، جب میری پرفارمنس نہیں تھی تو بابر اعظم نے مجھے سمجھایا۔کپتان ٹی ٹی 20 ٹیم سلمان علی آغا نے کہا کہ ایشیا کپ کے بعد جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز سے قبل بابر اعظم نے مجھے کہا کہ فارم آتی جاتی رہتی ہے، کبھی سوچا نہیں تھا کہ سال میں 56 میچز کھیل جاؤں گا، آئندہ بھی موقع ملا تو ضرور کھیلوں گا، پاکستان سے کھیلنا میرے لئے فخر کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنے کیلئے فٹ رہنا بہت ضروری ہے، کھلاڑیوں کو روٹیشن پالیسی کے تحت ٹیم میں شامل کیا جا رہا ہے، ورلڈکپ سے پہلے سری لنکا میں سیریز بہت اہم ہے، سری لنکا میں سپن زیادہ ہوتا ہے اور رات میں بال سوئنگ بھی ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے علاوہ نیوزی لینڈ میں کھیلنا سب سے زیادہ اچھا لگتا ہے، جنوبی افریقہ میں فینز سپورٹیو ہوتا ہے۔سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ محمد یوسف اور مائیکل کلارک کی بیٹنگ سے متاثر ہوں، اکثر بیٹھ کر ان دونوں پلیئرز کی بیٹنگ دیکھتا ہوں، کھانے میں پائے نہاری سے زیادہ کڑاہی اور بریانی پسند ہے۔