جوان نظر آنے کیلیے صبا فیصل کی کاسمیٹک ٹریٹمنٹ کروانے کی تصاویر وائرل؛ کڑی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
صبا فیصل اُن چند اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنی بڑھتی ہوئی عمر کی لگام کو اپنے ہاتھوں میں تھام رکھا ہے اور وقت کی سیاہ پرچھائیوں سے خود کو محفوظ رکھا ہے۔
معروف اداکارہ فیصل صبا 60 سال کی زائد عمر کی ہونے کے باوجود اپنے فٹنس اور خوبصورتی کا نہایت خیال رکھتی ہیں۔
وہ وقتاً فوقتاً اپنے مداحوں کے ساتھ جلد کی حفاظت اور خوبصورتی کے لیے ٹوٹکوں اور علاج کو شیئر بھی کرتی رہتی ہیں۔
سوشل میڈیا ان کی ایسی ہی تصاویر نے تہلکہ مچا دیا ہے جس میں وہ اپنی چہرے پر کوئی ٹریٹمنٹ کرواتی نظر آرہی ہے جو غالباً پی آر پی ٹریٹمنٹ ہے۔
اس طریقہ علاج میں چہرے پر انجیکشن کا استعمال، سوئیاں چبھونا اور کریموں کا استعمال بھی شامل ہے۔ چہرہ اتنا سرخ ہوجاتا ہے جسے خون جلد پر ابھر آیا ہو۔
ویڈیو میں بھی صبا فیصل کا چہرہ سرخ لگ رہا ہے اور چہرے کے تاثرات بھی ایسے ہیں جیسے وہ کافی تکلیف میں ہیں لیکن ضبط کر رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ملا رجحان دیکھنے کو ملا ان کے مداح کا کہنا تھا صحت و خوبصورتی نعمت ہے جس کی حفاظت میں تکلیف بھی سہنا پڑتی ہے۔
تاہم تنقید کرنے والوں کی بھی کمی نہ تھی کسی نے کہا کہ اس عمر میں اتنی تکلیف سہنے کی کیا ضرورت ہے تو کسی نے اسے دکھاوا قرار دیا۔
ایک صارف نے لکھا: "اُف، یہ دیکھ کر مجھے بھی درد ہونے لگا ہے۔ میں تو اس کے بغیر ہی خوبصورت سہی۔
کسی نے لکھا کہ "استغفراللہ، اتنی تکلیف کیوں برداشت کر رہی ہیں؟ ایک اور صارف نے حیرت سے پوچھا "اس عُمر میں بھی یہ سب کروا رہی ہیں!
@sabafaisall.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔