اسلام آباد:

بانی پی ٹی آئی عمران خان نے 3 دن کے اندر شوکت خانم اسپتال سے میڈیکل ٹیسٹ اور طبی معائنہ کرانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

بانی پی ٹی آئی نے وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرائی ہے جس میں سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب، آئی جی جیل خانہ جات، اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اورشوکت خانم میموریل اسپتال کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی  ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا شوکت خانم اسپتال سے ہر ماہ میڈیکل چیک اپ اور میڈیکل ٹیسٹ کرانے کی ہدایات جاری کی جائیں، میڈیکل ٹیمز کو بانی پی ٹی آئی تک مکمل رسائی دینے کی ہدایات جاری کی جائیں، بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل ہسٹری اور صحت کی موجودہ  صورتحال کے مطابق طبی معائنے کی اجازت دی جائے، میڈیکل رپورٹ کی کاپی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ اور عدالت میں جمع کرانے کی ہدائت کی جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سابق وزیر اعظم ہیں، انہیں کچھ طبی مسائل کا سامنا ہے، عدالت نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے موجودہ حکومت کے کہنے پر سزا دی، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے شوکت خانم اسپتال سے بہتر طبی سہولیات دی جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شوکت خانم اسپتال سے بانی پی ٹی آئی

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر