وفاقی وزیر و سینیئر رہنما پاکستان مسلم لیگ ن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنے سیاسی حریف پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کی عیادت کی ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے شعیب شاہین کے دفتر جا کر ان کی عیادت کی اور خیریت دریافت کی۔

سیاسی مخالفت کو صرف سیاست تک رہنا چاہیے ، ہمیں ایک دوسرے کے دکھ سکھ ، خوشی غمی میں شریک ہونا چاہیے بطور مسلمان ہمارا دین بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے ، جناب شعیب شاہین صاحب کے لئے دعا گو ہوں اللہ کریم انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے اور وہ پھر سے اپنا کردار ادا کر سگیں ۔۔۔ امین… https://t.

co/Dv57BFPALp

— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) December 2, 2025

بعد ازاں ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں طارق فضل چوہدری نے کہاکہ سیاسی مخالفت کو صرف سیاست تک رہنا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کے دکھ سکھ، خوشی غمی میں شریک ہونا چاہیے۔ بطور مسلمان ہمارا دین بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ میں شعیب شاہین کے لیے دعا گو ہوں اللہ کریم انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے تاکہ وہ پھر سے اپنا کردار ادا کر سکیں۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار ڈاکٹر شعیب شاہین کو شکست دی ہے، جبکہ تحریک انصاف کا الزام ہے کہ ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔

ڈاکٹر شعیب شاہین کو کینسر کا عارضہ لاحق ہے، اور اسی بنیاد پر وہ سیاسی سرگرمیوں سے دور ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پی ٹی آئی سیاسی حریف شعیب شاہین طارق فضل چوہدری عیادت وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سیاسی حریف شعیب شاہین طارق فضل چوہدری عیادت وی نیوز طارق فضل چوہدری نے شعیب شاہین

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک