ہمیں اپنی آزادی کے لئے لڑنا ہو گا، پی ٹی آئی کے بانی کا اڈیالہ جیل سے پیغام
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
سٹی42: پی ٹی آئی کے اڈیالہ جیل میں قید بانی نے اپنی بہنوں کے ساتھ ملاقات میں پاکستانیوں کو "آزادی کے لئے لڑنے" کی کال دے دی۔
پی ٹی آئی کے بانی کی بہن عظمی خان نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ بانی نے کہا ہے کہ ہمیں اپنی آزادی کے لیے لڑنا ہو گا۔ آپ ان کی نسلوں کے غلام بنیں گے۔
بانی کی بظاہر غیر سیاسی بہن عظمیٰ خان نے میڈیا کیمروں کے سامنے کسی ماہر سیاستدان کی طرح تقریر کرتے ہوئے بتایاکہ پی ٹی آئی کے بانی نے کہا ہے کہ کوئی آپشن نہیں سوائے آواز اٹھانے کے۔بانی نے کہا کہ لینڈ مافیا سمیت تمام مافیاز،مینڈیٹ چوروں سے آزادی حاصل کرنا ہو گی۔
مفتی منیب الرحمٰن ڈینگی کی وجہ سے ہسپتال داخل
عظمی خان جو اڈیالہ جیل میں اپنے بھائی کی صحت کے حوالے سے افواہوں کے متعلق پیشان تھیں، جیل سے واپس آ کر بتایا کہ ان کےبھائی بالکل ٹھیک ہیں۔ لیکن وہ بہت غصے میں ہیں۔ غصے میں اس وجہ سے تھے کہ انھیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
عظمیٰ خان نے الزام لگایا کہ عمران خان کو "مینٹلی ٹارچر" کیا جا رہا ہے۔ البتہ عظمیٰ خان نے کسی مینٹل ٹارچر کی کوئی تفصیل نہیں بتائی اور یہ بتانا شروع کر دیا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے کسانوں کے حوالے سے بات کی۔ وہ کسانوں کے متعلق پریشان تھے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ترک وزیر توانائی کی میٹنگ؛ ترک پیٹرولیم کمپنی کا دفتر پاکستان میں کھولا جائے گا
عظمیٰ خان نے کہا، "اگر ہمارے اوپر کوئی آئین اور قانون لاگو نہیں ہوتا تو ہمیں بھی اس سے آزاد ہو جانا چاہئے.
پی ٹی آئی کے بانی کی دوسری بڑی بہن علیمہ خان نے اس موقع پر الگ سے میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کیں۔ انہیں الگ خبر کی شکل میں شائع کیا جا رہا ہے۔
Waseem Azmet
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کے بانی اڈیالہ جیل نے کہا
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔