عمران خان سے ملاقاتیں: اڈیالہ جیل کے باہر سیکورٹی ہائی الرٹ، دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں آج بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن ہے، جہاں عمران خان سے ان کے اہل خانہ، وکلا اور پارٹی قیادت کی ملاقاتیں متوقع ہیں۔
اس موقع کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے 3 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے، جس کے تحت کسی بھی قسم کے سیاسی یا مذہبی اجتماع پر پابندی برقرار رہے گی۔ اس دوران جیل کے گرد و نواح میں سیکورٹی انتہائی سخت کی گئی ہے جب کہ شہر کے بیشتر علاقوں میں تمام نجی تعلیمی ادارے بھی احتیاطاً بند کروا دیے گئے ہیں۔
اڈیالہ روڈ پر آج صبح سے ہی معمول کے برعکس بھاری نفری کی موجودگی دیکھی گئی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے 6 وکلا پر مشتمل فہرست جیل حکام کے سپرد کی گئی، جس میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، سلمان اکرم راجا، بیرسٹر سلمان صفدر سمیت علی زمان، سردار نبی اور طلعت محمود شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق فہرست کے مطابق ان افراد کو آج باری باری ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔ علاوہ ازیں عمران خان کی بہنیں بھی جیل میں ان سے ملاقات کے لیے پہنچیں جب کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی آمد بھی متوقع بتائی جا رہی ہے۔ پارٹی کی جانب سے منتخب ارکان اسمبلی کو بھی جیل پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتظامیہ نے اڈیالہ روڈ کے داخلی و خارجی مقامات پر پانچ اضافی چیک پوسٹیں قائم کر دی ہیں جب کہ مختلف ناکوں پر پولیس کی اضافی نفری گشت کرتی رہی۔ دہگل ناکا، گیٹ ون، گیٹ فائیو، فیکٹری ناکا اور گورکھپور کے مقام پر خصوصی چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے، جہاں خواتین اہلکار بھی تعینات کی گئی ہیں۔
مجموعی طور پر 12 تھانوں کے ایس ایچ اوز کو بھی نگرانی کے لیے ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اور 700 سے زائد اہلکار صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے موجود رہیں گے۔
سیکورٹی پر مامور دستوں کو اینٹی رائٹ کِٹ فراہم کر دی گئی ہے جبکہ اضافی نفری کو اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔ جیل کی طرف جانے والی ہر گاڑی کو مکمل چیکنگ کے بعد ہی آگے بڑھنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سرگرم ہیں اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی یقینی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب