سب جانتے ہیں آئی ایم ایف کی رپورٹ درست ہے، اسے غلط ثابت نہ کریں، ریحان حنیف
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
اپنے بیان میں صدر کراچی چیمبر نے کہا کہ فاٹا پاٹا کے لیے ہر مہینے ایک لاکھ پچاس ہزار ٹن کھانے کا تیل درآمد ہوتا ہے تاہم فاٹا میں اس کا محض سات فیصد استعمال ہوتا ہے، باقی ملک میں سیلز ٹیکس کی چھوٹ کے ساتھ فروخت ہوتا ہے، یہ معاملہ محض خوردنی تیل تک محدود نہیں بلکہ ایک فہرست ہے جس میں اسٹیل اور چائے، کھانے کا تیل سرفہرست ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان حنیف نے کہا ہے کہ سب جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ درست ہے، اسے غلط ثابت نہ کریں بلکہ اس سے اپنی سمت درست کریں۔ ریحان حنیف نے اپنے بیان میں کہا کہ فنڈ کی رپورٹ کہتی ہے کہ یہ ساری مراعات حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کے افراد کو جاتی ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا وہ اسے ٹھیک کرے گی، درست ہے کہ بات ساری ارادے کی ہے، اگر کرنا چاہیں تو ریاست اور اس کی رعایا کیا کچھ نہیں کر سکتی۔ ریحان حنیف نے کہا کہ فاٹا خیبر پختونخوا میں ضم ہوگیا لیکن اِنہیں دی جانے والی مراعات کا نقصان آج بھی حکومت کو ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر پاکستانی ایک سال میں اوسط بیس کلو گھی اور تیل استعمال کرتا ہے، اس تناسب سے اگر فاٹا اور پاٹا کی 60 لاکھ آبادی کی سالانہ کھپت نکالی جائے تو یہ ایک لاکھ بیس ہزار ٹن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا پاٹا کے لیے ہر مہینے ایک لاکھ پچاس ہزار ٹن کھانے کا تیل درآمد ہوتا ہے تاہم فاٹا میں اس کا محض سات فیصد استعمال ہوتا ہے، باقی ملک میں سیلز ٹیکس کی چھوٹ کے ساتھ فروخت ہوتا ہے، یہ معاملہ محض خوردنی تیل تک محدود نہیں بلکہ ایک فہرست ہے جس میں اسٹیل اور چائے، کھانے کا تیل سرفہرست ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ریحان حنیف ہوتا ہے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
رات میں پپیتا کھانے کے فوائد اور ممکنہ نقصانات
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پپیتا ایک ایسا پھل ہے جو غذائی اجزاء، وٹامنز اور انہضامی اینزائمز سے بھرپور ہوتا ہے اور اسے عام طور پر ہاضمے کی بہتری، قوت مدافعت اور مجموعی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
پپیتے میں وٹامن سی، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس کی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے جبکہ کیلوریز کم اور فائبر زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ وزن کے کنٹرول میں بھی مددگار ہے علاوہ ازیں پپیتا پروٹین کو توڑنے میں معاون بھی ہے، جو ہاضمے کے عمل کو آسان بناتا ہے۔
سائنس کی موجودہ تحقیق رات کو پپیتا کھانے کے فائدے یا نقصان کے بارے میں حتمی رائے نہیں دے سکی۔ اس حوالے سے زیادہ تر معلومات روایتی مشاہدات اور عمومی تجربات پر مبنی ہیں۔ اگر معدہ حساس ہو یا پپیتا کچا کھایا جائے، یا ضرورت سے زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو معدے میں جلن، بدہضمی یا گیس جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔
صحت مند افراد کے لیے اعتدال میں پکا ہوا پپیتا رات کے کھانے کا حصہ بن سکتا ہے، جبکہ وہ لوگ جنہیں ہاضمے کے مسائل ہیں، انہیں بہتر ہے کہ پپیتا دن میں استعمال کریں تاکہ معدے پر بوجھ کم پڑے۔
غذائی ماہرین کا مشورہ ہے کہ پپیتے کو کھانے کے لیے وقت کے مقابلے میں اس کی مقدار، صحیح طریقے سے پکا ہونا اور فرد کی ذاتی صحت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ صحیح انداز میں استعمال کیا جائے تو پپیتا ایک ہاضمے دوستانہ، غذائیت سے بھرپور اور مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند پھل ہے۔